الانفال

الانفال

(الانفال)اس پارہ کی ابتداء میں مالِ غنیمت کے بارے میں وضاحت ہے مالِ غنیمت کاحکم بتانے کے بعد غزوہ بدر کے بارے میں بڑے اثر انگیز انداز میں بیان کیا گیا ہے ۔غزوہ بدر سن۲ ہجری میں ہوا ۔ میدان بدر میں مسلمانوں اور کافروں کا آمنا سامنا اس طرح ہو اکہ کافر کم وبیش ایک ہزار کی تعداد میں تھے اور پوری طرح مسلح تھے۔ جبکہ مسلمان صرف ۳۱۳ ، اور سامان حرب وضرب انتہائی قلیل ، لیکن اللہ تبارک وتعالیٰ کی نصرت نے مسلمانوں کو اپنے حصار میں لے لیا ۔ مسلمانوں کی نصرت کے اسباب میں اللہ اور اس کے پیارے رسول کی غیر متزلز ل اطاعت اور محبت ،میدان جنگ میں ثابت قدمی ،ذکر اللہ کی کثرت ،باہمی اتفاق اور صبرو استقامت شامل ہیں ۔جبکہ شیطان نے کفار کو سخت غرور اور تکبر میں مبتلا کردیا تھا۔ مسلمانوں کی مددکے لیے آسمان سے فرشتے نازل ہوئے ۔غزوہ بدر کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کی گئی ہے کہ جہاں تک ممکن ہوسکے کفار کی ریشہ دوانیوں سے بچنے کے لیے اور دفاع ملت کے لیے اپنا اسلحہ اور اسباب تیار رکھو۔لیکن جنگ وجہاد کے لیے ہمہ وقت تیار ومستعد رہنے کا یہ مقصد بھی ہر گز نہیں کہ لازماً ہر وقت مصروفِ پیکار ہی رہو ۔ یہ حکم بھی دیا گیا ہے کہ ’’اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو تم بھی صلح کی طرف پیش رفت کرو۔‘‘اگر مسلمان قیادت صلح میں مسلمانوں کا مفاد دیکھے تو اسے مصا لحت کر لینی چاہیے ۔حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مواقع پر صلح کا راستہ اختیار فرمایا ہے۔ جو لوگ اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کرتے ہیں ۔ جہاد میں شمولیت کرتے ہیں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں وہ بلاشبہ ایک دوسرے کے رفیق ہیں۔
سورۃ توبہ(یہ مدنی ہے اس میں ۹۲۱ آیات ہیں )۔ یہ سورت ۹ ہجری میں اس وقت نازل ہوئی ۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رومیوں کی سرکوبی کے لیے غزوئہ تبوک کے سفر میں تھے۔ رومی سلطنت اس وقت کی سپرپاور تھی۔ یہ غزوہ مسلمانوں کے لیے ایک بڑی آزمائش تھا۔ اس کے ذریعے سچے مومنوں اور بدخواہ منافقوں کی نشان دہی ہوئی۔ اس سورت کو سورت برأت بھی کہتے ہیں کیونکہ اس میں مشرکین سے کیے گئے تمام معاہدات سے برأت کا اعلان کردیا گیا ۔ اس سورت کے مرکزی مضامین دوہیں ۔ مشرکین اور اہل کتاب کے ساتھ جہاد کے احکام کا بیان ہے اور اہل ایمان اور منافقین کے درمیان واضح فرق کا بیان ہے۔ مشرکین سے معاہدوں کی حتمی مدت چار ماہ مقر ر کردی گئی اور انھیں بیت اللہ شریف کے حج سے روک دیا گیا ۔ بدخواہ اہل کتاب سے جہاد کی اجازت دے دی گئی اور منافقین کی علامات اور ان کی کارستانیوں کو کھول کر بیان کردیا گیا۔