زبان کو آٹھ باتوں سے بچائو (۲)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

(۴) غیبت :غیبت سے بچو ۔ غیبت کے یہ معنی ہیں کہ انسان کی پیٹھ پیچھے اس کا ایسے ذکر کیا جائے کہ اگر وہ سن لے تو اسے ناگوار گزرے ۔ اگر تم ظالم کی غیبت اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہوئے کرو گے تو بھی غیبت ہو گی ۔ خود پسند اور ریا کار اشخاص کی غیبت سے بھی بچو ۔ کیونکہ ان معاملا ت میں کم از کم تم یہ کہو گے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کرے ، ان کے عمل کی وجہ سے مجھے تکلیف پہنچی اور اللہ تعالیٰ ان کی اور میری اصلاح کر ے تو ایسا کہنے میں دو بری باتیں ہیں۔ ایک غیبت اور دوسرے گناہ سے باز آنے اور اصلاح کی دعا کرنے سے اپنی تعر یف بیان کرنا۔ اگر’’ اللہ تعالیٰ ان کی اصلاح کرے ‘‘سے تمہاری مراد دعاہے تو یہ دعا تمہیں پوشیدہ انداز میں کرنی چاہیے اور اگر حقیقتاً تمہیں ان کے اعمال سے تکلیف پہنچی ہے تو اسکی علامت یہ ہونی چاہیے تھی کہ تم اس کی رسوائی اور غیبت کا ارادہ نہ رکھتے ۔ لیکن تم نے اس کے جس عیب کی وجہ سے غم اور تکلیف کا اظہار کیا ہے، یہ بھی اظہار غیبت ہے اور اس غیبت سے اللہ تعالیٰ کا یہ قول روکتاہے۔ ’’تم آپس میں ایک دوسر ے کی غیبت نہ کرو۔ کیا تم میں سے کو ئی اپنے مردہ بھائی کے گوشت کو کھانا پسند کرتا ہے۔‘‘ اگر تمہیں اپنے مردہ بھائی کے گوشت کھانے کو کہا جائے تو تمہیں ناگوار گزرے گااور تم اپنی کراہیت کا اظہا ر کروگے۔ اللہ تعالیٰ نے غیبت کرنے والوں کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے سے تشبیہ دی ہے اور تمہیں مسلمانوں کی غیبت سے منع کیا اس لئے تم پر لازم ہے کہ اس سے بچو۔ اور اس سے با آسانی اس طرح بچ سکتے ہو کہ اپنی ذات میں غور و فکر کرو کہ آیا تم میں کوئی ظاہری یا باطنی عیب تو نہیں یاکسی عیب کا شائبہ تو نہیں اگر ہے تو یہ دیکھو کہ جس طرح تم اپنے عیبو ں سے نہیں بچ سکتے اسی طرح دوسرے بھی نہیں بچ سکتے اور جس طرح تم اپنے عیب کے ظہور کو براجانتے ہو اسی طرح وہ بھی اسے برا سمجھتے ہیں اور اگر تم اس کے عیبوں کو چھپائو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے عیبوں کو چھپا ئے گا ۔ اور اگر تم کسی کی غیبت کروگے تو اللہ تعالیٰ دنیا میں تمہیں لوگوں کے ذریعے اور آخر ت میں ان کے سامنے بے عزت کرے گا۔ اور اگر تم اپنے اند ر کوئی ظاہری یا باطنی عیب نہیں دیکھتے تو یا درکھو کہ نفس کے عیوب سے جاہل ہونا ہی سب سے بڑا عیب ہے اور اس سے بڑھ کر حماقت کوئی نہیں ۔ اگر اللہ تعالیٰ تمہارے حق میں بہتر ی کرنا چاہتا تو تمہیں اپنے عیوب سے آگاہی کی طاقت بخشتا اور تم اپنے نفس کو عیو ب سے بھر اپا تے ۔ اور اگر تم میں واقعی کوئی عیب نہیں تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لائو ۔ اور اس پاکیز ہ نفس کو لوگوں کی غیبت کرنے اور ان کی عزتوں کو اچھالنے سے آلو دہ نہ کرو کیونکہ یہ عمل بذات خود بہت بڑا عیب ہے۔