دوستوں سے عملی تعاون

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
دوستوں سے عملی تعاون

امام ابو بکر احمد بن بیہقی کتاب الا ٓداب میں لکھتے ہیں : حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک سفر میں ہم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر تھے کہ ایک شخص اونٹنی پر سوار ہو کر آیا اور اس نے اونٹنی کو دائیں بائیںپھیرنا شروع کردیا ۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس کوئی زائد سواری ہو وہ اس شخص کو دیدے جس کے پاس سواری نہیں اور جس کے پا س زائد مقدار میں زادِراہ ہووہ اس شخص کو دیدے جس کے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔چنانچہ آپ نے مختلف قسموں کے اموال کاذکر فرمایا حتیٰ کہ ہم یہ سمجھے کہ ہمارے زائد مال میں ہمارا کوئی حق ہے ہی نہیں ۔
حضرت جابر بن اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں پیچھے رہ کر ضعیف اور کمزور کی مدد فرماتے ۔اسے اپنی سواری پر پیچھے بٹھاتے اور اس کے لیے دعا کرتے ۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کے حضور بہتر ساتھی وہ ہے جو اپنے ساتھی کے لیے سب سے بہتر ہے اور اللہ تعالیٰ کے حضور سب سے بہتر پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے حق میں سب سے بہتر ہے ۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی صحبت میں رہا، آپ مجھ سے عمر میں بڑے تھے،لیکن اس کے باوجود میر ی بڑی خدمت کیا کرتے تھے۔آپ (حضرت جریر)فرمایا کرتے تھے کہ میں نے انصارِ مدینہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم وتوقیر اور خدمت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ لہٰذا اب بھی میں کسی انصار ی کو دیکھتا ہوں تو اس کی تعظیم وتکریم کوضروری سمجھتا ہوں ۔
حضرت حارث بن شریح رضی اللہ عنہ فرماتے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک مسجد میں نماز ادا کی تو آپ نے ارشاد فرمایا: مسلمان ،مسلمان کا بھائی ہے۔ جب اس کی دوسرے بھائی سے ملاقات ہو اور وہ سلام کہے تو اس کا ویسا ہی یا اس سے بھی بہتر جواب دے۔ جب وہ اس سے کوئی مشورہ طلب کرے تو اس کی خیر خواہی کرے ۔ جب وہ اپنے دشمن(دینی) کے خلاف مدد مانگے تو اس کی مدد کرے جب وہ رہنمائی چاہے تو رہنمائی کرے ،جب اپنے دشمن کے خلاف اس سے ہتھیار ادھار لینا چاہے تو اسے مہیا کرے ۔لیکن کسی مسلمان کے خلاف ہتھیار لینا چاہے تو ہر گز نہ دے ۔ جب ڈھال مانگے توچاہیے کہ اسے دے، اسی طرح عام گھریلو استعمال کی چیزیں دینے میں بخل نہ کرے ۔ (کتا ب الآداب امام ابوبکر احمد بن حسین بیہقی)