رمضان اور تحصیل تقویٰ(۵)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
رمضان اور تحصیل تقویٰ(۵)

اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے اس کے راستے میں خرچ کرنا اہل تقوی کا تیسرا نمایاں وصف ہے۔ اگرچہ رزق کی معنویت بڑی وسیع ہے اور یہ ظاہری ، باطنی اورمعنوی نعمتوں کو محیط ہے۔ رمضان المبارک کا ماحول کیفیت جودوسخا میں اضافے کا باعث ہے۔ خود پروردگار نے ہر عمل کا اجر بڑھا دیا ہے۔ نفل پڑھنے پر فرض کا ثواب ہے، فرض ستر گناہ زیادہ بار آور ہو چکا ہے۔ ہر رات گہنگاروں کو بخشش کے پروانے مل رہے ہیں۔ جناب رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کہا گیا کہ آپ رمضان المبارک میں تیز ہواؤں سے بھی زیادہ سخی ہو جاتے ۔ ایسے میں انسان کو کم از کم یہ تو محسوس ہو کہ میں نے صرف اپنے خوراک کے معمولات کو ذر ابتدیل کیا ہے، تو مجھے شام تک بھوک کا کیسا احساس ہوا ہے۔ ان لوگوں کا عالم کیا ہو گا جن کے گھر میں مدتوں آگ روشن نہیں ہوتی، مدتوں چولہا نہیں جلتا۔ رمضان میں غم گساری کی ایک تحریک میسر آتی ہے جو اگر معاشرے میں مستقل رائج ہوجائے تو معاشرہ جنت نظیر ہوجائے۔
وحی الٰہی جو کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہوئی اس پر ایمان رکھنا اور جو آپ سے پہلے اتاری گئی اس پر ایمان رکھنا اہل تقویٰ کا چوتھا وصف ہے۔ یہ و صف اس امر کا آئینہ دار ہے کہ متقی صرف اللہ کی وحی پر مبنی نظام زندگی (دین) کو ہی حتمی سمجھتا ہے اور وحی الٰہی کے مکمل ہو جانے (یعنی ختم نبوت) کے بعد نہ تو کسی نبی کو تسلیم کرتا ہے اور نہ ہی کسی اور نظام کو انسانی احتیاجات کے لیے مکمل سمجھتا ہے۔ رمضان میں ہمیں اللہ کے پیغام قرآن سے وابستگی کے مواقع دوسرے ایام سے زیادہ ملتے آتے ہیں۔ تلاوت کا دورانیہ بڑھ جاتا ہے ، تراویح میں منزل سننے کا شرف حاصل ہوتا ہے، دورس قرآن اور مفاہیم قرآن کی نشستیں بڑھ جاتی ہیں۔ کیا ہی عمدہ ہو کہ ہم امکانی حد تک کتاب ہدایت کی روشنی سے خود کو منور و مستنیر کریں۔
آخرت پر ایقان رکھنا اہل تقویٰ کا پانچواں نمایاں و صف ہے۔ ایقان اس مرحلہ تسلیم کو کہا جاتا ہے جہاں شک اور شبہ کا ذرا سا امکان بھی باقی نہ رہے۔ آخرت پر ایقان ضروری ہے۔ متقی اپنے ہر عمل کو آخرت کی جواب دہی کے نقطہ نظر سے کرتا ہے۔ اسے ہر لمحہ یہ خیال رہتا ہے کہ میرا ایک الہ ٰہے جس نے مجھے پیدا کیا ،مجھے مہلت عمل دی اب ایک وقت ایسا بھی آنے والا ہے جب میں نے اس کے سامنے پیش ہونا ہے اور روزہ اس شعور سے رکھا جاتا ہے کہ مجھے اللہ ہر وقت دیکھ رہا ہے۔یہ مزاج بن جائے تو آخرت کا ایقا ن پیدا ہوجاتا ہے اور عمل میں ازخود ایک حسن عمل اتر آتا ہے۔