حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
 حضرت عمر بن عبدالعزیز کی خلافت

بنواُمیہ کا حکمران سلیمان بن عبدالملک شدید بیمار ہوگیا،اس نے چاہا کہ اپنے کم سن بیٹے ایوب کو اپنا جانشین مقرر کردے، لیکن معروف صاحب علم حضرت رجاء بن حیاۃ نے ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا، دوسرے بیٹے دائود کے بارے میں بھی اتفاق رائے نہ ہوسکا، کافی غور وفکر کے بعد سلیمان نے استفسار کیا، عمر بن عبدالعزیز کے بارے میں کیا رائے ہے، حضرت رجاء نے کہا:واللہ ! میں انھیں نہایت عمدہ اوربہترین مسلمان سمجھتا ہوں،سلیمان نے کہا : یقینا وہ بہترین ہیں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں اگر عبدالملک کی اولاد کے سواء کسی اورکے لیے وصیت کروں تو وہ اسے خوش دلی سے قبول نہیں کریںگے اوراسے چین سے حکومت نہیں کرنے دیں گے ، ہاں ایک صورت یہ ہے کہ اگر میں انکے بعد یزید بن عبدالملک کو بھی نامزد کردوں ، تو وہ عمر کو بھی قبول کرلیں گے،رجاء کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو خبر ملی کہ سلیمان نے مجھے مشاورت کے لیے بلایا تو انھوںنے مجھے قسم دے کر کہا تھا کہ اگر سلیمان کا روئے سخن میر ی طرف دیکھنا تواس کی مخالفت کرنا، ناموں پر اتفاق ہوجانے کے بعد یہ طے ہوا ابھی ان کا اعلان کیے بغیر لوگوں سے خلیفہ کے فیصلے پر بیعت لی جائے، حضرت عمر کو پھر اندیشہ لاحق ہواکہ کہیں ان کا نام نہ طے پاگیا ہو، انھوںنے مجھ سے اصرار کیا کہ میں انھیں فیصلے کے بارے میں آگاہ کردوں تاکہ اپنا نام ہونے کی صورت میں وہ ابھی سے معذرت کرلیں لیکن میںنے انھیں کچھ بھی بتانے سے صاف انکار کردیا، ہشام بن عبدالملک نے بھی مجھ سے بہت اصرار کیا، اوراس نے کہا کہ اگر میرے علاوہ کسی اورکا نام ہوتو میں سلیمان کے پاس جاکر پوچھوںکہ میرے علاوہ کسی اورکو خلیفہ کیسے بنا یا جاسکتا ہے لیکن میںنے اسے بھی انکار کردیا ، اس پر وہ ناامید ہوکر وہاں سے چل دیا اورہاتھ ملتے ہوئے کہہ رہا تھا ، کیا خلافت مجھ سے پھیر دی جائے گی ، اورکیا خلافت عبدالملک کی اولاد سے نکل جائے گی۔
جب سلیمان بن عبدالملک کا انتقال ہوگیا ، تو رجاء کو اندیشہ تھا ،بنو امیہ آسانی سے اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے ، اس لیے انھوںنے کچھ دیر سلیمان کی موت کو چھپائے رکھا اوردابق (لشکر گاہ )کی جامع مسجد میں بنو امیہ کے افراد کو جمع کرکے دوبارہ بیعت لی ، اس کے بعد سلیمان کی موت کا اعلان کیاگیا، وصیت نامہ کھولاگیا ، اس میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کا نام تھا، لیکن آپ کہیں دکھائی نہیں دے رہے تھے، آپ کو تلاش کیا گیا تو مسجد کے آخری کونے میں سرجھکاکر بیٹھے ہوئے ملے، آپ کی حالت غیر ہورہی تھی، اٹھنے کی سکت نہ تھی، لوگوں نے انھیں سہارا دے کر منبر پر بٹھایا ،آپ کافی دیر خاموش بیٹھے رہے پھر ارشادفرمایا:واللہ! میںنے پوشیدہ اورظاہری طورپر کبھی بھی اللہ رب العزت سے اقتداراورخلافت کا سوال نہیں کیا۔ ( طبقا ت ابن سعد)