نبوت وخلافت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
نبوت وخلافت

’’حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :جب حضرت آدم علیہ السلام سے (حکمت ومشیت ایزدی کے تحت) فروگذاشت ہوئی توانہوںنے اپنا چہرہ آسمان کی طرف اٹھایا اورعرض کرنے لگے:
(اے میرے مولا!)اگر تونے مجھے معاف نہ فرمایا تو میںمحمد صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلہ سے تجھ سے سوال کرتا ہوں(کہ تو مجھے معاف فرمادے)،پس اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ محمد کیا ہیں اور محمد کون ہیں؟توحضرت آدم علیہ السلام نے عرض کیا:
اے اللہ ! تیرانام بابرکت ہے جب تونے مجھے خلعتِ تخلیق پہنائی تومیںنے اپنا سراٹھا کرتیرے عرش کی طرف دیکھا، وہاں لکھاتھا:
لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ ۔سومیںنے جان لیا کہ یہ کوئی تیرے نزدیک عظیم قدرومنزلت والی ذات ہی ہے کہ جس کا نام تونے اپنے نام کے ساتھ ملاکر لکھ رکھا ہے ، چنانچہ اللہ نے میری طرف وحی فرمائی کہ اے آدم! یہ تیری اولاد میںسے خاتم النبیین ہیں اوران کی امت تیری اولاد میں سے آخر الامم ہے اور اے آدم! اگریہ نہ ہوتے تومیں تجھے خلعتِ تخلیق سے نہ نوازتا۔‘‘ (طبرانی، مجمع الزوائد)
’’حضرت سفینہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:نبوت کی خلافت تیس سال ہے اس کے بعداللہ جس کو چاہے گاسلطنت یا اپنی سلطنت عطا فرمائے گا۔‘‘(ابودائود)
حضرت ابوطفیل بیان کرتے ہیں کہ انہوںنے حضرت حذیفہ بن یمان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ اے لوگو!کیا تم مجھ سے نہیں پوچھو گے، پس بے شک لوگ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میںسوال کرتے تھے اورمیں آپ سے شرکے بارے میں سوال کرتا تھا۔ بے شک اللہ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مبعوث فرمایا تو آپ نے لوگوں کو کفر سے ایمان کی طرف اورگمراہی سے ہدایت کی طرف بلایا، پس جس نے دعوت قبول کی سو اس نے کی اورحق سے مردہ شخص زندہ اورباطل سے زندہ شخص مردہ ہوگیا، پھر نبوت جاتی رہی اورخلافت علی منہاج النبوۃ قائم ہوگی۔‘‘(مسند احمد بن حنبل)
’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
(پہلے زمانے میں)بنی اسرائیل کی قیادت ان کے انبیاء کیا کرتے تھے جب ایک نبی وصال فرماجاتا تو اللہ پاک دوسرا نبی مبعوث فرمادیتا (پھر میری بعثت ہوگئی) میرے بعد کوئی نبی مبعوث نہ ہوگا(چونکہ میںآخری نبی ہوں لہٰذا میرے بعد) اب (میرے ) خلفاء ہوں گے جو بکثرت ہوں گے۔‘‘ (بخاری، مسلم، ابن ماجہ)