رمضان اور تحصیل تقویٰ(۳)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
رمضان اور تحصیل تقویٰ(۳)

سورة البقرة کی ابتدائی آیات میں اس حقیقت کا اظہار کیا ہے کہ یہ کتاب اہل تقویٰ کے لیے ہدایت ہے۔یہاں ہدایت سے مراد ارفع ترین ہدایت ہے یعنی ایصال الی المطلوبکسی کو منزل مقصود تک پہنچادینا۔ جب راہ نور شوق منزل جاناں تک باریاب ہو تا ہے توبارگا رہ ناز کے سارے دروازے کھل جاتے ہیں اورسارے حجابات اٹھ جاتے ہیںاور انسان کی نظر میں حسن حقیقی کے جلوئے بس جاتے ہیں۔سورہ بقرہ کی انہیں ابتدائی آیا ت میں ان لوگوں کے خصائل حمیدہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے جو متقی ہیں۔ رمضان المبارک کے تقدس مآب ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اوصاف و شمائل کو اپنے اندر پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ورنہ حدیث پاک کی رو سے روزہ محض بھوک اور پیاس کی ایک مشقت بن کر رہ جائے گا۔یہ علامات درج ذیل ہیں:(۱)ایمان بالغیب کے حامل ہیں (۲) نماز قائم کرتے ہیں (۳) اللہ کے دیے ہوئے رزق میںسے اس کے راستے میں خرچ کرتے ہیں (۴) حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی وحی اور اس سے قبل نازل ہونے والی وحی پر ایمان رکھتے ہیں (۵)آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔اہل تقوی کا پہلا اور بنیادی وصف ایمان بالغیب ہے۔ اللہ اور اس کے پیغام کو مان لینا اور اس سے وابستہ ہو جانا ایمان ہے۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جن حقائق کی اشارہ فرمایا ہے، انہیں بلا چوں و چرا ماننا ایمان بالغیب ہے۔ ایمان ایک ایسا وصف ہے جو انسان کے وجود میں اطمینان و سکینت کا سبب ہے اور اس کو ذہنی اور نظریاتی طور پر یکسو کر دیتا ہے اور اس کے عمل کی ایک شاہراہ متعین ہو جاتی ہے۔رمضان میں ایمان بالغیب کی کیفیت میں ایک گونا اضافے کا سامان موجود ہے۔ ہم نے کس کے کہنے پر اپنی زندگی کے گیارہ ماہ کے طرز عمل کو یک لخت تبدیل کر دیا۔ اللہ کے حکم پر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتانے پر ،روزہ ایک ایسا عمل ہے جس کا صحیح ترین ادراک یا تو اللہ رب العزت کو ہے یا خود روزہ دار کو ۔ ”روزہ میرے لیے ہے اور میں خود ہی اس کی جزاءدیتاہوں یا میں خود ہی اس کی جزاءہوں۔جیسی حوصلہ افزاءبشارت اسی لیے ہے کہ اس پر کوئی تیسرا حتمی اور یقینی گواہ ہو نہیں سکتا ۔ سارا دن انسان کھانے پینے یا خواہشات نفسانیہ سے مجتنب رہتا ہے۔ محض اس لیے کہ اس کا اپنے پروردگار سے ایک وعدہ ہے۔ اگر ہم روزہ کے مقرر دورانیہ میں حلال اورطیب اشیاءکو ترک دینے کے عادی ہو جاتے ہیں تو دوسرے ایام میں ہمیں کم از کم حرام تو ضرور ترک دینا چاہیے۔ اگر یہ کیفیت اجتناب ہمارے وجود میں راسخ ہو جائے تو دوسرے گیارہ مہینوں میں ہم اہم موانعات شرعی سے اجتناب کے بھی عادی ہو سکتے ہیں۔