فضائلِ انبیاء

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
فضائلِ انبیاء

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ہم مسجد میں ایک مجلس میںانبیاء علیہم السلام کے فضائل پر گفتگو کررہے تھے کہ ان میںسے کون زیادہ فضیلت والا ہے ؟پس ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اوران کی اپنے رب کی طویل عبادت گزاری کا ذکر کیا ،ہم نے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا ،حضرت موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا ذکر کیا ،حضرت عیسیٰ بنت مریم علیہم السلام کا ذکر کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر کیا۔ ابھی ہم اسی حال میںتھے کہ اچانک ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے اورفرمایا:تم آپس میںکس چیز کا تذکرہ کررہے ہو؟ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ !ہم فضائلِ انبیاء کا ذکر کررہے تھے کہ ان میںسے کون زیادہ افضل ہے؟ پس ہم نے حضرت نوح علیہ السلام اوران کی اپنے رب کی طویل عبادت گزاری کا ذکر کیا،ہم نے حضرت ابراہیم خلیل الرحمن علیہ السلام کا ذکر کیا، حضرت عیسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کا ذکر کیا، حضرت عیسیٰ بنت مریم علیہ السلام کا ذکر کیا اوریارسول اللہ ! آپ کا ذکر کیا۔ آپ نے فرمایا : تم نے کسی افضل قراردیا؟ہم نے عرض کیا: یارسول اللہ !ہم نے آپ کو افضل قرار دیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تمام لوگوں کی طرف نبی بنا کر مبعوث فرمایا:آپ کوسابقہ و آئندہ گناہوں سے محفوظ فرمایااوریہ کہ، آپ انبیاء کے خاتم ہیں۔‘‘(طبرانی،مجمع الزوائد)

’’حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:ہرنبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث کیا جاتا تھا جب کہ مجھے تمام انسانوں کی طرف مبعوث فرمایا گیا ہے۔‘‘(صحیح بخاری،سنن نسائی)
’’حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:میں سرخ اورسیاہ تمام لوگوں کی طرف مبعوث کیاگیا ہوں اور(مجھ سے پہلے)ہر نبی محض اپنی بستی کی طرف مبعوث کیا جاتاتھا۔‘‘(طبرانی،مجمع الزوائد)
’’حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع کے موقع فرمایا:اے لوگو!یہ کون سادن ہے ؟صحابہ کرام نے عرض کیا:حج کا دن ۔پھر حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:یہ کون ساشہر ہے ؟صحابہ کرام نے عرض کیا:یہ بلد حرام (مکہ مکرمہ)ہے۔پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا:یہ مہینہ کون ساہے؟صحابہ کرام نے عرض کیا:حرمت والا مہینہ۔ آپ نے فرمایا:بے شک اللہ تبارک وتعالیٰ نے تمہارے خون،تمہارے اموال اورتمہاری عزتوں کو اس دن ،اس ماہ اوراس شہر کی حرمت کی طرح حرام کیا ہے، آگاہ ہوجائو،تم میںسے جو حاضر ہے وہ غائب کو پہنچا دے کہ میرے بعدکوئی نبی نہیں اورتمہارے بعد کوئی امت نہیںہے ۔پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے اورفرمایا:اے اللہ! گواہ رہنا۔‘‘ (مجمع الزوائد۔امام ہیثمی)