سفید پوشوں کا خیال کرو

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
 سفید پوشوں کا خیال کرو

اللہ رب العزت جل شانہٗ ارشادفرماتے ہیں اورانھیں حکم دیا گیا کہ وہ اللہ ہی کی عبادت کریں اسی کے لیے دین کے مخلص بنتے ہوئے باطل سے منہ موڑ کر حق کی طرف مائل ہوتے ہوئے اورنماز کو قائم کریں ، اورزکوٰۃ اداکریں اوریہی ملت قیّمہ کا دین ہے۔(البینہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کی یارسو ل اللہ کس صدقے کا اجر وثواب سب سے زیادہ ہے آپ نے فرمایا تم اس وقت صدقہ کرو جب تم صحت مند اور تندرست ہو، مال جمع کرنے کی تمناء ہو ، فقروتنگ دستی سے ڈرتے ہو اوردولت اورتونگری کی امید رکھتے ہو ،(ہاں)صدقہ کرنے میںاتنی تاخیر نہ کرنا جب تمہاری جان حلق میں آجائے تو کہو فلاں کو اتنا دے دو فلاں کو اتنا، حالانکہ اب وہ مالِ فلاں وارثوں کا ہوچکا ہو۔(بخاری، مسلم، ابودائود، نسائی، مسند احمد)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے درمیان گھومتا رہتا ہے اوروہ ان سے ایک لقمہ یا دولقمے اورایک کجھور یا دوکجھور لے کر چلا جاتا ہے ،صحابہ نے پوچھا:یارسول اللہ پھر مسکین کون ہے ؟آپ نے فرمایا : جس کے پاس اتنا مال نہ ہو جو اس کی ضروریات سے اس کو مستغنی کردے اورنہ ہی اس کے آثارسے مسکینی اورفقر کا پتا چلے تاکہ اس پر صدقہ کیا جائے اورنہ وہ لوگوں سے سوال کرتا ہے ۔ (صحیح بخاری، مسلم، ابودائود، السنن الکبریٰ ، صحیح ابن حبان)
اس حدیث مبارکہ میں یہ نشاند ہی کی گئی ہے کہ ضروری نہیں کہ جو شخص لوگوں سے سوال کا عادی ہو تو لازماً مفلس اورتنگ دست بھی ہو، بہت سے سفید پوش ایسے ہیں جن کے پاس کچھ مال اسباب تو ہوتا ہے لیکن وہ ان کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انھیں کفایت نہیں کرتا لوگ بھی ان کے گھر ، لباس ، روزمرہ کے استعمال کی عام چیزوں کی وجہ سے انھیں مفلس وتنگ دست گمان نہیں کرتے اوروہ شخص خود لوگوں کے سامنے دست سوال دراز کرنے کا خوگر نہیں ہوتا۔ مسلم معاشرے کا فرض کہ وہ ایسے خوددار اورغیرت مندافراد کا خیال رکھیں، اوراگر معاشرے کے اغنیاء اپنے رشتہ داروں میں صلہ رحمی کے عادی ہوجائیں ، عام لوگ اپنے پڑوسیوں اوردوستوں کا حال احوال دریافت کرتے رہیں اورخاص طور پر نماز باجماعت کے انتہائی مفید نظام کو ایک دوسرے کی خبر گیری کے لیے استعمال کیا جائے تو بڑی حد تک مسلم معاشرہ اپنے اس فریضے سے عہدہ براہ ہوسکتا ہے ۔