احسان

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
احسان

حدیثِ جبریل میں تیسرا سوال احسان کے بارے میں ہے۔ ایمان اور اسلام کے ساتھ دین کا ایک تیسرا تقاضا احسان بھی ہے۔ گویا اسلام ہم سے حسنِ ایمان اور حسنِ اسلام کا بھی خواہاں ہے ۔
’’ہماری زبان اور ہمارے محاورے میں تو ’’احسان‘‘کے معنی کسی کیساتھ اچھا سلوک کرنے کے ہیں۔ لیکن یہاں جس ’’احسان‘‘ کا ذکر ہے اور اسکے علاوہ ایک خاص اصطلاح ہے اور اس کی حقیقت وہی ہے جو حدیثِ جبریل میں آنحضرت نے بیان فرمائی ’’یعنی خداکی بندگی اس طرح کرنا جیسے کہ وہ قیوم وقدّوس اور ذوالجلا ل والجبروت ، ہماری آنکھوں کے سامنے ہے۔ اور گویا ہم اس کو دیکھ رہے ہیں (ورنہ وہ تو بہر حال ہمیں دیکھ رہا ہے)۔اس کو یوں سمجھیے کہ غلام ایک آقا کے احکام کی تعمیل اس وقت کرتا ہے جبکہ وہ اس کے سامنے موجود ہو اور اس کو یقین ہو کہ وہ مجھے اچھی طرح دیکھ رہاہے۔ اور ایک روّیہ اس کا اس وقت ہوتا ہے۔ جب کہ وہ آقا کی غیر موجودگی میں کا م کرتا ہے۔ عموماً ان دونوں وقتوں کے طرزِ عمل میں فرق ہوتا ہے ۔ اور عام طور سے یہی ہوتا ہے کہ جس قدر دلی دھیان اور محنت اور خوبصورتی کے ساتھ وہ آقا کی آنکھوں کے سامنے کا م کرتا ہے۔ اور جس خوش اسلوبی سے اس وقت وظائف خدمت کو انجام دیتا ہے۔ مالک کی عدم موجودگی میں اس کا حال وہ نہیں ہوتا ۔یہی حال بندوں کا اپنے حقیقی مولا کے ساتھ بھی ہے۔ جس وقت بندہ یہ محسوس کرے میر ا مولا میر ے کام ،بلکہ میری ہر ہر حرکت اور ہر ہر سکون کو دیکھ رہا ہے۔ تو اس کی خاص کیفیت اور اسکی بندگی میں ایک خاص شانِ نیاز مندی ہوگی ،اس وقت نہیں ہوسکتی ،جبکہ اس کا دل اس تصور اور اس احساس سے خالی ہو۔ تو احسان یہی ہے کہ اللہ کی بندگی اس طرح کی جائے گویا کہ وہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے اور ہم اسکے سامنے ہیں اوروہ ہم کو دیکھ رہاہے ‘‘۔(معارف الحدیث)
انسان کو یہ کیفیت نصیب ہوجائے تو جہاں اسے عبادت کی کیفیت وحلاوت حاصل ہونے لگتی ہے اور وہ ذوق بندگی سے آشنا ہوجاتا ہے ۔ وہیں پر بندہ معصیت ،نافرمانی اور گناہ سے بھی بچنے لگتا ہے۔ ہر وقت خدا کے پیش نظر رہنے کا تصور راسخ ہوجائے تو وہ جذبات وخواہشات کے رو میں بہہ نہیں جاتا ،کیونکہ اسے اچھی طرح احساس ہوجاتاہے ۔میرا خالق ،مالک اللہ ہے جو قیوم وقادر بھی ہے اور کارساز بھی ہے اور نگہبان ونگہ دار بھی ۔وہی ہے جس نے مجھے نعمتوں کی فراوانی سے نوازاہے۔ قوت ،توانائی ، عطاکی ہے۔ صحت وتندرستی بخشی ۔اگر وہ چاہتا تو مجھے ان نعمتوں سے محروم بھی کر سکتا تھا ۔مجھے اپاہج ومعذور بھی کرسکتا تھا۔ اگر اس نے مجھے محروم نہیں کیا میرا بھی یہ فرض ہے کہ حق بندگی اداکروں۔
مرے غوروفکر کے زاویوں پہ ہیں سخت پہر ے لگے ہوئے
کوئی کیا مجال ترے سوا کبھی آبھی جائے خیال میں