مقاماتِ انبیاء

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
مقاماتِ انبیاء

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ چند صحابہ کرام ،حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے انتظار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والتسلیم تشریف لے آئے جب ان کے قریب پہنچے تو انہیں کچھ گفتگو کرتے ہوئے سنا ۔ ان میںسے بعض نے کہا:تعجب کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق میں سے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا، دوسرے نے کہا:یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے اللہ تعالیٰ سے ہم کلام ہونے سے زیادہ تعجب خیز تونہیں۔ 

ایک نے کہا:حضرت عیسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کا کلمہ اورروح ہیں کسی نے کہا:اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو چن لیا۔حضورنبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کے پاس تشریف لائے سلام کیا اورفرمایا:میںنے تمہاری گفتگو اورتمہارا اظہار تعجب سنا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام خلیل اللہ ہیں ، بیشک وہ ایسے ہی ہیں۔حضرت موسیٰ علیہ السلام نجی اللہ ہیں، بیشک وہ اسی طرح ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام روح اللہ اورکلمۃ اللہ ہیں واقعی وہ اسی طرح ہیں ۔آدم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا وہ بھی یقینا ایسے ہیں ہیں۔
سن لو! میں اللہ کا حبیب ہوں اورمجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔قیامت کے دن حمد کا جھنڈا اٹھا نے والا ہوں اورمجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں ۔قیامت کے دن سب سے پہلا شفاعت کرنے والا بھی میں ہی ہوں اورسب سے پہلے میری ہی شفاعت قبول کی جائے گی اور مجھے اس بات پرکوئی فخر نہیں ۔سب سے پہلے جنت کے دروازے پر دستک دینے والا بھی میں ہوں۔اللہ تعالیٰ میرے لیے اسے کھولے گا اورمجھے اس میں داخل کرے گا۔ میرے ساتھ فقیر وغریب مومن ہوں گے اورمجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں ۔میں اولین وآخرین میں سب سے زیادہ عزت والا ہوں لیکن مجھے اس بات پر کوئی فخر نہیں۔‘‘(ترمذی،دارمی)
’’اسماعیل کا بیان ہے کہ میںنے حضرت ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے کہا کہ کیا آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے حضرت ابراہیم رضی اللہ عنہ کودیکھا ؟انہوںنے فرمایا کہ وہ چھوٹی عمر میں ہی وصال کرگئے تھے۔اگر اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہوسکتا ہے تو آپ کے صاحبزادے زندہ رہتے۔لیکن آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘ (بخاری ،ابن ماجہ)
’’حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:امامت ونبوت ختم ہوگئی ، پس میرے بعد نہ کوئی رسول ہے اورنہ ہی کوئی نبی۔راوی کہتے ہیںکہ یہ بات لوگوں کے لیے باعثِ رنج ہوئی توآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:لیکن بشارتیں (باقی ہیں)۔صحابہ کرام نے عرض کیا:یارسول اللہ ! بشارتیں کیا ہیں؟آپ نے فرمایا:مسلمان کا خواب اوریہ نبوت کاایک حصہ ہے۔‘‘(ترمذی،حاکم،احمد)