فضائل مدینہ منورہ

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
فضائل مدینہ منورہ

مدینہ منورّہ کے باسیوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے دل وجان نچھاور کردیے ۔حضور کی تشریف آوری سے اس شہر کا ماحول ہی بدل گیا۔ پہلے یہاں کی آب وہوا صحت کے لیے سازگار نہ تھی ۔بخار اور دیگر متعدی بیماریاں وباء کی صورت میں پھوٹتی رہتی تھیں ۔ پانی خوش ذائقہ نہ تھا۔ اسی وجہ سے یثرب کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے تشریف لانے سے نام ہی تبدیل نہیں ہوا۔ آب وہوا بھی خوش گوار ہوگئی، مزاج بدل گئے۔ دشمن جاں باہم شیرو شکر ہوگئے۔حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص مدینہ کو یثرب کہے اسے چاہیے کہ یہ وہ اپنی غلطی پر اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرے ۔یہ تو طابہ (پاکیزہ )ہے، یہ تو طابہ ہے یہ تو طابہ ہے۔(امام احمد ) ٭حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ہم مدینہ منورہ آئے تو وہ وبائوں والا تھا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ اور حضرت بلا ل رضی اللہ عنہ بیمار ہوگئے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام کی بیماری کو دیکھا تو(اللہ کے حضور )عرض کیا: اے اللہ ہمارے لئے مدینہ منورّہ ایسا ہی محبوب بنادے جیسا کہ تو نے مکہ مکرّمہ کو بنایا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ اور اس کوصحت وعافیت والا بنا اور ہمارے صا ع اور مد (پیمانوں اور باٹوں ) میں ہمارے لیے برکتیں عطا فرمادے اور یہاں کے بخار کو جحفہ (کے ویرانے )کی طرف منتقل کردے۔(صحیح مسلم)حضرت عبد اللہ بن زید بن عاصم سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بے شک ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرّمہ کو حر م بنایا تھا اور یہاں کے رہنے والوں کیلئے دعاء کی تھی تو بے شک میں مدینہ منورہ کو اسی طرح حرم بنارہا ہوں جیسے ابر اہیم علیہ السلام نے مکہ کر حرم بنایا تھا اور میں نے اس کے صاع اور مد کیلئے دوگنی دعاء کی ہے اسی طرح جیسے ابر اہیم علیہ السلام نے مکہ والوں کیلئے دعا مانگی تھی۔(صحیح مسلم) ٭حضرت ابو ہریر ہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :’’مدینہ منورہ کی گھاٹیوں پر فرشتے ہیں ، ان سے نہ طاعون اندر آسکتا ہے اور نہ دجال آسکتا ہے ۔ (صحیح بخاری)٭حضر ت انس بن مالک رضی اللہ عنہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں ۔آپ نے فرمایا مدینہ حرم ہے اس جگہ سے اس جگہ تک ،اسکے درخت نہ کاٹے جائیں اور نہ اس میں گناہ کیا جائے ،اور جس نے کوئی گناہ کیا اس پر اللہ تعالیٰ ،فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔ (صحیح بخاری)٭حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کر فرماتے ہوئے سنا : کوئی شخص مدینہ منورہ کے مصائب پر صبر کرے اور وہ مرجائے تو میں قیامت کے دن اس کا شفیع یا شہید (گواہ ) بنوں گا ،بشرطیکہ وہ مسلمان ہو۔(صحیح مسلم)