عالم برزخ

صحافی  |  نُورِ بَصیِرتْ

اللہ تعالیٰ سب جہانوں کے رب ہیں اور جناب رسول پاکؐ سب جہانوں کیلئے رحمت ہیں‘ عالم برزخ مرنے کے بعد سے قیامت تک کیلئے رہنے کی جگہ ہے۔ ہر عالم کے اپنے الگ قوانین ہیں اور یہ عالم آپس میں ملے ہوئے بھی ہیں اور جدا جدا بھی جیسے عالم جمادات‘ عالم نباتات‘ عالم حیوانات‘ عالم انسانی‘ عالم جنات‘ عالم ملائکہ‘ عالم ارواح‘ وغیرہ عام طور پر عالم برزخ کو بالکل دنیا جیسا سمجھ لیتے ہیں‘ اس سے گڑبڑ ہو جاتی ہے عالم برزخ ‘ عالم دنیا اور عالم آخرت کا درمیانی عالم ہے۔ نہ یہ بالکل دنیا جیسا ہے اور نہ بالکل آخرت کی مانند۔ موت کیلئے بجا طور پر انتقال کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے‘ یعنی مرنے والا دنیا سے برزخ میں منتقل ہو جاتا ہے۔
یورپ اور امریکہ میں مرنے والوں سے رابطہ قائم کرنے کی کئی سوسائٹیاں موجود ہیں لیکن انکا رابطہ عام فوت شدہ لوگوں سے ہوتا ہے۔ ہماری تاریخ تصوف میں روحانی بزرگوں سے رابطہ قائم ہو جانے کے متعدد واقعات ملتے ہیں بلکہ یہ رابطہ ہماری تاریخ تصوف کا اہم حصہ ہے‘ ایسے خوش نصیبوں کے واقعات بھی ملتے ہیں جنہیں جناب رسالت مآب ﷺ کی زیارت کا شرف حاصل ہوا گویا یورپ کا عالم برزخ کا علم بھی ہمارے تصوف کے عالم برزخ کے علم سے بہت پیچھے ہے جیسے انکی سائیکالوجی کی رسائی صرف نفس یا حیوانی جبلتوں کے مخزن تک ہے جبکہ ہمارے صوفیا اس سے اوپر قلب‘ روح اور سر اور خفی اور اخفٰی تک رسائی رکھتے ہیں۔
یورپ میں ایسی کئی کتابیں شائع ہوئی ہیں اور ہو رہی ہیں جن میں اہل برزخ سے روابطہ کے واقعات درج ہیں۔ ایسی کتابوں کا اتنا فائدہ ضرور ہے کہ ان سے آخرت پر ایمان قائم ہوتا ہے اور جب تک آخرت پر ایمان نہ ہو۔ اعلیٰ اخلاق کی بالادستی قائم نہیں ہو سکتی ۔
احادیث مبارکہ میں قبر کے احوال کا جو بیان ہے وہ عالم برزخ ہی کے احوال ہیں‘ مثلاً نیک آدمی کی قبر کو تاحد نگاہ وسعت دیدی جاتی ہے۔ اسکی قبر کو منور کر دیا جاتا ہے اس کیلئے جنت کی طرف دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اسے جنت کی ہوا اور خوشبو آتی ہے۔ کافر کی قبر تنگ کر دی جاتی ہے اس کیلئے آگ کا لباس اور آگ کا بستر ہے ‘ دوزخ کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے جہاں سے اسے گرم ہوا اور تپش آتی ہے۔ جناب رسول پاکؐ کا ارشاد گرامی ہے بروایت سیدنا عثمان غنیؓ کہ ’’قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے‘‘ حدیث شریف کیمطابق یہ آیت مبارکہ :ترجمہ: ’’اللہ تعالیٰ صاحب ایمان کو قول ثابت (کلمہ طیبہ) کیساتھ مستحکم رکھتا ہے‘‘