ایمان

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

حدےثِ جبرےل (بخاری ومسلم) مےں دوسرا سوال اےمان کے بارے مےں ہے۔اےمان اَمن سے ماخوذ ہے اور امن کا معنی ہے نفس کا مطئمن ہونا اور خوف کا زائل ہونا ۔ امن ، امانت ، امان اصل مےں مصادر ہےں ۔ ”امان“ انسان کی حالتِ امن کو کہتے ہےں ۔ انسان کے پاس جو چےز حفاظت کے لےے رکھی جائے اس کو امانت کہتے ہےں۔(امام راغب اصفہانی) اےمان کے اصل معنی کسی کے اعتبار اور اعتماد پر کسی بات کو سچ ماننے کے ہےں ۔ دےن کی خاص اصطلاح مےں اےمان کی حقےقت ےہ ہے کہ اللہ کے پےغمبر اےسی حقےقتوں کے متعلق جو ہمارے حواس اور آلاتِ ادراک کی حدود سے ماوراہوں جو کچھ بتلائی اور ہمارے پاس جو علم اور جو ہداےت اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائےں ۔ہم ان کو سچا مان کر اس مےں ان کی تصدےق کرےں ۔ اور اس کو حق مان کو قبول کرلےں ۔بہر حال شرعی اےمان کا تعلق اصولاً امو ر غےب ہی سے ہوتاہے ۔جن کو ہم اپنے آلاتِ احساس وادراک (آنکھ،ناک،کان وغےرہ ) کے ذرےعے معلوم نہےں کرسکتے ۔مثلاً اللہ اور اس کی صفات اور اس کے احکام اور رسولو ں کی رسالت اور ان پر وحی کی آمد ، اور مبداومعاد (ےعنی کا ئنات کا آغاز وانجام )کے متعلق ان کی اطلاعات وغےرہ وغےرہ تو اس قسم کی جتنی باتےں اللہ کے رسول بےان فرمائےں ان سب کو ان کی سچائی کے اعتماد پر حق جان کر ماننے کا نام اصطلاحِ شرےعت مےں اےمان ہے ۔ اور پےغمبر کی اس قسم کی کسی اےک بات کو نہ ماننا اس کو حق نہ سمجھنا ہی اس کی تکذےب ہے۔ جو آدمی کو اےمان کے دائرہ سے نکال کر (کفر)کی سرحد مےں داخل کردےتی ہے۔ پس آدمی کے مومن ہونے کے لےے ضروری ہے کہ کُلُّ مآ جاءبہ الرسول من عنہ اللہ کی (ےعنی تمام ان چےزوں اور حقےقتوں کی جو اللہ کے پےغمبر اللہ کی طرف سے لائے )تصدےق کی جائے اور ان کو حق مان کر قبول کےا جائے۔ لےکن ان سب چےزوں کی پوری تفصےل معلوم ہونی ضروری نہےں بلکہ نفسِ اےمان کے لےے ےہ اجمالی (مختصر) تصدےق بھی کافی ہے۔ البتہ کچھ خاص ،اہم اور بنےادی چےزےں اےسی بھی ہےں کہ اےمانی دائرہ مےں آنے کے لےے ان کی تصدےق ”تعےن “کے ساتھ ضروری ہے۔ چنانچہ حدےث زےرِ تشرےح (حدےث جبرےل ) مےں اےمان کے متعلق سوال کے جواب جن امور کا ذکر فرماےا گےا ہے (ےعنی اللہ ، ملائکہ (فرشتے ) اللہ کی کتابےں ۔اللہ کے رسول ، روزقےامت اور ہر خےر وشر کی تقدےر ) تو اےمانےات مےں سے ےہ وہی اہم اور بنےادی امور ہےں۔ جن پر ”تعےن “ کے ساتھ اےمان لانا ضروری ہے۔ اور اسی واسطے آنحضرت صلی اللہ علےہ وسلم نے ان کاذکر صراحةً اور ےقےن کے ساتھ فرماےا۔(معارف الحدےث)
ولاےت ،پادشاہی ،علمِ اشےاءکی جہانگےری۔۔۔ ےہ سب کےا ہےں فقط اک نکتہ اےمان کی تفسےرےں