دہشت گردی کے خلاف جنگ ۔اور سیاسی عدم ہم آہنگی

صحافی  |  جاوید قریشی

ارادہ تھا ملک میں ہر طرف سے ابھرتے ہوئے تناؤ اور بحران پر بات کرنے کا لیکن دہشت گردوں کے داتا دربار پر حملہ نے مجبور کر دیا کہ پہلے اس پر کچھ بات ہو جائے۔ لاہور ایک بار پھر دہشت گردی کی لپیٹ میںہے۔ زیادہ دیر کی بات نہیں کہ احمدیہ جماعت کے دو مراکز گڑھی شاہو اور ماڈل ٹائون اس قسم کی دہشت گردی کا نشانہ بنے تھے۔ اس موقع پر ہلاک کر دئیے جانے والوں کی تعداد سو کے قریب تھی۔ داتا دربارمیں ان عبادت گزاروں کی تعداد جو جان سے ہاتھ دھو بیٹھے 45 بتائی جاتی ہے۔ زخمیوں کی تعداد 175 ہے۔ خدا جانے زخمیوں میں بھی کتنے ایسے ہوں گے جو جان کی بازی ہار جائیں گے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق وزارتِ داخلہ نے دو روز قبل حکومت پنجاب کو اس قسم کی دہشت گردی کی اطلاع دے دی تھی لیکن پھر بھی دہشت گرد ایک بار پھر اپنے مذموم مقصد میں کامیاب ہوئے اور انتظامیہ منہ دیکھتی رہ گئی۔ لاہور شہر کی اس مقدس ترین عمارت کو گزشتہ آٹھ سو سال تک کوئی میلی آنکھ سے دیکھ سکا نہ اس کا تقدس پامال کر سکا۔ متعدد بار غیر ملکی فوجوں کی یلغار بھی اس میں شامل ہے۔ کئی مذاہب کے حملہ آور آئے اور اس پر قابض ہوئے۔ برسوں سکھ اس شہر پر حکمرانی کرتے رہے۔ پھر انگریزوں کا دور بھی آیا لیکن کبھی دربار پر حملہ تو دور کی بات کسی کو بُری نظر سے اس کی طرف دیکھنے کی جرأت بھی نہ ہو ئی۔ نہ ہی کسی نے زائرین کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ لیکن افسوس کہ مسلمانوں کے جمہوری دور میں انتظامیہ اس کے تقدس کو برقرار رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔
در اصل دہشت گردی سے ہماری مملکت کا کوئی حصہ کوئی گوشہ محفوظ نہیں۔ احمدی جماعت پرحملہ کے بعد گرفتار ہونے والے اشخاص سے دہشت گردوں کے بارے میں مفید اطلاعات ملی ہیں۔ ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے مطابق متعدد گرفتاریاں رائے ونڈ کے علاقہ سے ہوئی ہیں۔ رائے ونڈ تو ویسے بھی شریف برادران کی وجہ سے ہائی سیکورٹی زون ہو گا۔ یہاں سے بے شمار اسلحہ، بارود، راکٹ لانچرز، خود کش جیکٹ بنانے کا سامان، جن میں خواتین کے لئے مخصوص جیکٹس بنانے کا سامان پکڑا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں ایک کوالیفائڈ انجینئر بھی ہے۔ اِن دہشت گردوں میں پڑھے لکھے نوجوان بھی شامل ہیں۔ خدا جانے کیوں ہماری پولیس نے اس اہم واقعہ کو عوام سے مخفی رکھا ہوا ہے۔ اگر دہشت گردی کی اس خبر کو تصویروں کو ساتھ عام کر دیا جاتا تو ممکن ہے عوام کو چوکس کرنے اور ان وطن دشمن لوگوں سے محفوظ رہنے کا بہتر انتظام کیا جا سکتا۔ اس واقعہ کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے یہ مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی بد ترین مثالوں میں سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ شہداء کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے۔ اُمید ہے حکومت اس تکلیف دہ واقعہ کی بھرپور انکوائری کرے گی اور نتائج سے عوام کو باخبر کرے گی۔ اس قسم کے واقعات میں سیکورٹی ایجنسیز کی ناکامی کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جہاں جہاں کوتاہی سامنے آئے سخت تادیبی اقدام کئے جائیں۔ ہماری پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیز کو بھی پوری سرگرمی سے دہشت گردی کی آماجگاہوں کو تلاش کر کے انہیں ختم کردینا ہو گا تاکہ ملک دہشت گردی سے چھٹکارا حاصل کر سکے۔
ایک طرف دہشت گردی کے اس قسم کے واقعات ، دوسری طرف ان تمام سے صرف نظر کر کے ذاتی اور جماعتی مفادات کا تحفظ یقین نہیں آتا کہ وہ لوگ جن کے ہاتھوں میں قدرت نے ہماری تقدیر کے فیصلے رکھ دئیے ہیں کیونکر اتنے خود غرض ہو سکتے ہیں کہ سب کچھ فراموش کر کے محض ان چیزوں پر توجہ دیں جو ان کے کام کی ہوں۔ لوگ اس رویے سے اس قدر نالاں ہو چکے ہیں کہ اب کہنے لگے ہیں کہ جمہوریت نے ہمیں دیا کیا؟ مہنگائی، بے روزگاری، فاقے، خودکشیاں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ نظام نے ایک ایسا گروہ پیدا کر دیا ہے جسے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ہر نعمت میسر ہے۔ زرق برق لباس، عالیشان گاڑیاں، محلات، بے انداز دولت (خواہ اُسے ملک کے اندر رکھیں یا باہر) یہ ایسے خوش نصیب لوگ ہیں جن پر مہنگائی، توانائی کے بحران یا کسی بھی دوسرے بحران کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ ان کی دولت کا شمار نہیں۔ بجلی، ڈیزل، پٹرول ، مٹی کا تیل وغیرہ کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات سے یہ لوگ سدا محفوظ رہتے ہیں۔ غریب عوام جب اپنی حالت کا ان کے حالات سے موازنہ کرتے ہیں تو کبھی خود کشی پر آمادہ ہو جاتے ہیں، کبھی یہ اقدام اپنے پیاروں کے ساتھ سب کی زندگی کی شمع گل کر کے دنیاوی آزار سے نجات حاصل کر لیتے ہیں۔ کبھی آپ نے پہلے یہ سنا تھا کہ ایک ماں اپنے چار بچوں کو زہر کے ٹیکے لگا کر خود اپنی زندگی ختم کر لے؟ یا ماں اپنے تین بچوں سمیت ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کے جینے کے عذاب سے چھٹکارا حاصل کر لے؟ خدا جانے ابھی اور کیا کیا دیکھنا باقی ہے؟
گزشتہ عام انتخابات کے بعد دو جماعتوں کو نمایاں کامیابی میسر آئی۔ ان میں اول پی پی پی اور دوئم ن لیگ تھیں۔ انتخابات سے پہلے پی پی پی کو اپنی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے صدمہ جانکاہ سے گزرنا پڑا۔ جس کا اثر لازمی طور پر انتخابات پر بھی ہوا۔ پنجاب میں ن لیگ نے بھی نمایاں کامیابی حاصل کی۔ ن لیگ کو صدر مشرف سے قربت کا خمیازہ بھگتنا پڑا اور وہ اتنی اچھی پوزیشن حاصل نہ کر سکی جس کی خواہش کر تی تھی۔ الیکشن کی راہ اور اس کے فوراً بعد پی پی پی اور ن لیگ میں اچھے روابط قائم ہو گئے تھے۔ دونوں نے مل کر وفاق اور پنجاب میں مخلوط حکومتیں بنانے کا فیصلہ کیا جو کہ ہمارے سیاسی مستقبل کے لئے ایک نیک فعال تھا۔ پاکستان میں بسنے والا ہر شخص چاہتا تھا کہ یہ الحاق قائم رہے اور ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتیں ایک ساتھ مل کر ملکی مسائل حل کریں لیکن ہر کوئی یہ بھی جانتا تھا کہ ایسا ہونا ممکن نہیں۔ کولیشن میں اختلافات پیدا ہونا شروع ہوئے، ن لیگ کو پی پی پی سے بدگمانیاں اور پی پی پی کو ن لیگ سے شکایات پیدا ہونا شروع ہوئیں اور نوبت بہ ایں جا رسید کہ ن لیگ نے خود کو وفاق کی حکومت سے علیحدہ کر لیا۔ پیپلز پارٹی پنجاب میں بد ستور حکومت کا حصہ رہی۔ ہر چند کہ ن لیگ نہیں چاہتی تھی کہ پیپلز پارٹی حکومت میں رہے ۔ پی پی پی کے وزراء کو بے اختیاری کی شکایتیں بھی رہیں حکومت سے گلے شکوے بھی لیکن حکومت کا پلہ چھوٹ نہ سکا اور پی پی کے وزراء غالب کے اس شعر کی تصویر نظر آئے ؎
اس بزم میں مجھے نہیں بنتی حیا کئے
بیٹھا رہا اگرچہ اشارے ہُوا کئے
ن لیگ کے رہنما میاں نواز شریف کا رویہ بطور اپوزیشن لیڈر اکثر اوقات لوگوں کی سمجھ سے بالا تر رہا۔ وہ حکومت پر تنقید کرتے بھی تھے تو کچھ اس انداز سے کہ حکومت کو تکلیف نہ ہو اور شکایت کا موقع نہ ملے۔ یہاں تک کہ دنیا نے ن لیگ کو ’’فرینڈلی اپوزیشن‘‘ کہنا شروع کر دیا۔ بعض تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ نواز شریف اس وقت تک شدید تنقید سے احتراز کریں گے جب تک ان کی جلا وطن ہونے والی ڈیل کے دس سال کی مدت پوری نہیں ہو جاتی۔ بعض کا یہ خیال تھا کہ وہ ابھی حکومت میں آنے کا سوچ نہیں رہے کیونکہ مملکت کو جس قسم کے مسائل کا سامنا ہے ان کا فوری حل نواز شریف کے پاس بھی نہیں۔ تبھی ان کے نمائندے یہ کہتے ہوئے پائے گئے کہ میاں صاحب موجودہ پارلیمنٹ کا حصہ کبھی نہیں بنیں گے۔ ن لیگ نے دو ایک مرتبہ مڈٹرم الیکشن کا بات ضرور کی لیکن پھر اپنی روش بدل لی اور حکومت اور اس کے متعدد عمال کی کرپشن پر اپنی توجہ مرکوز کر دی۔ ن لیگ کا خیال ہے کہ وہ ایسا کر کے زیادہ فائدہ اٹھا سکتی ہے۔ ن لیگ کے رویے میں پہلے کے مقابلہ میں یک لخت تلخی ن لیگ کے رہنما نواز شریف کی میڈیا سے گفتگو سے ظاہر ہو جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات بہتری کی جانب نہیں بڑھ رہے۔ حکومت عدلیہ کے فیصلے ماننے کی بجائے اسے آنکھیں دکھا رہی ہے۔ ہم ملکی حالات پر خاموش تماشائی نہیں بنیں گے۔ ہر ایشو پر پارلیمنٹ کا اجلاس بلائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملکی اداروں میں تین سو ارب روپے کی کرپشن ہو رہی ہے۔ سب کا احتساب ہونا چاہئے۔ ن لیگ کے قائد کی حکومت پر تنقید اچانک سامنے آئی ہے۔ ورنہ تو وہ حکومت کی حمایت ہی کرتے رہے ہیں ایک روز بعد نواز شریف نے پھرکہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہو گئی ہے۔ ایک ٹی وی رپورٹ کے مطابق میاں صاحب نے حکومت پر تنقید سے متعلق پارٹی رہنمائوں سے تجاویز طلب کر لی ہیں، انہوں نے پارٹی کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ پارلیمنٹ کا اجالاس جلد ریکوزیشن کریں۔ ن لیگ ذرائع نے بتایا کہ نواز شریف کا تند و تیز لہجہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت مڈ ٹرم انتخابات کی حمایت کی بجائے حکومت کے وزراء کی کرپشن بے نقاب کر کے انہیں سزا دلوائی جائے۔
جواب آں غزل کے طور پر صد ر آصف زرداری نے ایوان صدر میں ایک تقریب سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کچھ بھی کر لے حکومت اپنی پانچ سال کی مدت ضرور پوری کرے گی۔ جمہوریت کے دشمنوں نے بھیس بدلے ہوئے ہیں۔ سیاست کو دشمنی میں بدلنا اور سیاسی درجہ حرارت میں اضافہ نہیں چاہتا۔ کچھ لوگ ارکان پارلیمنٹ کو نا اہل کرانا چاہتے ہیں۔ جمہوری دوستوں سے کہتا ہوں جمہوریت کو خراب مت کریں پارلیمنٹ اپنا دفاع کرنے کی اہلیت رکھتی ہے۔
صاف ظاہر ہے کہ دونوں پارٹیوں کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں۔ دونوں کا رویہ ظاہر کرتا ہے کہ اگر فاصلے کم کرنے کی کوشش نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں ملک کے سیاسی حالات زیادہ خراب ہو جائیں گے۔ ویسے بھی مڈ ٹرم کی باتیں زیادہ شدت سے کی جانیں لگی ہیں۔ موجودہ حالات میں کوئی اچھی تصویر ابھرتی نظر نہیں آتی ۔ اگر دونوں پارٹیوں نے حالات کنٹرول کرنے کی کوشش نہ کی تو اس سے غیر سیاسی اور غیر جمہوری قوتوں کو کھل کھیلنے کا موقع ایک بار پھر مل جائے گا۔ ماضی میں بھی غیر جمہوری قوتوں کو آگے آنے کا موقع اس لئے ملتا رہا کہ سیاستدانوں میں ہم آہنگی نہ تھی۔ اگر یہ سلسلہ چلتا رہا تو ویسی ہی تشویشناک صورت حال پیدا ہو جانے کا خطرہ باقی رہے گا جو جمہوریت کے لئے نقصان دہ ہو گا۔ دہشت گردوں کا مقابلہ بھی مکمل سیاسی ہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں۔ خدا کرے ہمارے سیاست دانوں کی سمجھ میں یہ بات آ جائے۔