حسنِ تربیّت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

حضرت عبادہ بن الولید کہتے ہیں کہ میرے اور والد کے درمیا ن گفتگو ہوئی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ دنیا سے رخصت ہورہے ہیں ۔ ہمیں کوشش کرکے ان سے علم حاصل کر نا چاہیے، ہم مدینہ منو رہ میں انصار سے ملاقات کے لیے حاضر ہوئے ۔ہماری سب سے پہلی ملاقات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی حضرت ابوالیسر رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ہم نے آپ کو اس حال میں دیکھا کہ ایک غلام ان کے ساتھ تھا جس نے کتابوں کا ایک بنڈل اٹھایا ہواتھا۔ہم نے نوٹ کیا کہ حضر ت ابو الیسر نے جس قسم کا معافری کپڑا اور چادر زیب تن فرمائی ہوئی ہے۔ ان کے غلام نے بھی اس قسم کا لباس پہن رکھا ہے۔(معافرایک علاقے کانام ہے)میر ے والد نے ان سے کہا۔ اے عم ّ  محترم ! کیا وجہ ہے کہ ہمیں آپ کے چہر ے پر غم وغصہ کے آثار نظرآرہے ہیں ۔فرمانے لگے، ہاں ! معاملہ کچھ یوں ہے کہ فلاں قبیلہ کے ایک شخص کے ذمے میرا کچھ قرض تھا ۔ میں اس کے گھر گیا اور اہل خانہ سے پوچھا وہ کہاں ہے؟ وہ ٹال مٹول کر گئے ۔ اتنے میں اس کا بیٹاجعفر آگیا تو میں نے اس سے پوچھا کہ تمہارے والد صاحب کہا ں ہیں اس نے کہا کہ بات دراصل یہ ہے کہ جب انھوں نے آپ کی بات سنی تو خجالت کی وجہ سے ایک تخت کے پیچھے چھپ گئے۔اس پر میں دوبارہ وہاں گیا اور اسے آواز دی کہ مجھے خبر ہوگئی ہے کہ تم کہاں ہو۔ باہر آجائو ۔ وہ باہر آگیا ۔ میںنے اس سے پو چھا ، تمہیں مجھ سے چھپنے کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ کہنے لگا،قسم بخدا میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ مجھے اس بات کا خوف تھاکہ میں آپ سے صحیح بات نہ کرسکوںگا اور ادائیگی کا جو وعدہ کرلوں گا۔ اس کی پاسداری بھی مجھ سے نہ ہوسکے گی۔ جبکہ آپ اللہ کے پیار ے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی ہیں۔ کیوں کہ میں اس وقت بڑا تنگ دست ہوں (اس لیے مجھ سے یہ حرکت سرزد ہوئی اس کی اس حرکت پر مجھے لیکن رنج تو ہوالیکن )میں نے اس سے پوچھا اللہ کی قسم کیا تم واقعی تنگدست ہو ۔ اس نے کہا واقعی میں تنگدست ہوں۔ میں نے اسی طرح تین مرتبہ اللہ رب العزت کی قسم دے کر اس سے تصد یق چاہی۔ اس نے تینوں مرتبہ تصد یق کی ۔ اس پر میں نے قرض کی دستاویز نکالی ، اپنے ہاتھ سے اسے مٹاد یا اور اسے کہا اگر تم ادائیگی کی گنجائش پائو تو مجھے قرض اداکردینا ورنہ میر ی طرف سے یہ قرض معاف ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ میںنے ان دونوں آنکھوںسے دیکھا ہے( آپ نے تاکید کے طور پر اپنی دونوں آنکھوں پر اپنی انگلیاں بھی رکھیں ) اور میرے دونوں کانوں نے سنا ہے۔اور اس بات کو میرے دل نے محفوظ اور یا د بھی رکھا ہے( دل کی طرف اشارہ بھی فرمایا)کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے کہ’’جس آدمی نے کسی تنگدست آدمی کو مہلت دی یا اسے قرض معاف کردیا تو اللہ اسے اپنے سایہ رحمت میں جگہ عنایت فرمائے گا۔