غیبی شہادت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
غیبی شہادت

٭حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ زید بن خارجہ رضی اللہ عنہ انصار کے سرداروںمیں سے تھے(حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں )ایک دن وہ ظہر اورعصر کے درمیان مدینہ منورہ کے کسی راستے پر جا رہے تھے کہ اچانک گر گئے اورفورا ہی انتقال فرماگئے ۔
انصار کو اس واقعہ کی خبر ہوئی تو وہ آئے اور انھیں اٹھا کر گھر لے گئے اورایک کمبل اوردوچادروں سے ان کو ڈھانپ دیا۔گھر میں انصار کی کچھ عورتیں اورمرد گریہ زاری کررہے تھے۔مغرب اورعشاء کا درمیانی وقت ہوا تو دفعتاً ایک غیبی آواز آئی ،خاموش رہو !خاموش رہو!ادھر ادھر دیکھا تو محسوس ہوا یہ آواز ان کپڑوں کے نیچے سے آرہی ہے جس میں میت ہے ۔لوگوں نے ان کا منہ اورسینہ کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ کوئی غیبی شخص ان کی زبان سے کہہ رہا ہے کہ محمد رسول اللہ ! نبیِ اُمی، خاتم النبیین ہیں،ان کے بعد اب کوئی نبی نہیں ہوگا۔یہ بات تورات اورانجیل میں موجود ہے ،سچ ہے ،سچ ہے۔(طبرانی)اس حدیث شریف کے دیگر طرق میں ان کے اور بھی کلمات مذکور ہیں۔
مولانا محمد بدر عالم میرٹھی اس حدیث مبارکہ کے ذیل میں لکھتے ہیں ’’کرامت کے طور پر میت کا بولنا بھی کچھ تعجب کی بات نہیں تھی مگر راوی نے اس کی اورتوجیہہ بھی کردی ہے وہ یہ کہ یہاں بولنے والا دراصل کوئی فرشتہ تھا ،میت کی زبان ان کلمات کی ادائیگی کے لیے صرف ایک واسطے کا کام دے رہی تھی۔
جمادات وحیوانا ت کے ان خار ق عادات، شہادات سے مقصود یہ ہے کہ بنی آدم کی فطرت زیادہ سے زیادہ متاثر ہو کر نصیحت وعبرت حاصل کرے،اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کے لیے اورزیادہ مستعد ہوجائے ۔‘‘(ترجمان السنہ ،ج۱ ص440)
حضرت سہل بن سعد الساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عباس ابن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہجرت کرنے کی اجازت طلب کی ،آپ نے ارشادفرمایا
’’اے چچا ! آپ جس جگہ ہیں ابھی وہیں ٹھہرے رہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح مجھ پر نبوت ختم کی ہے اسی طرح آپ پر (میرے صحابہ کی مکہ سے مدینہ کی ) ہجرت ختم کرے گا‘‘۔(مجمع الزوئد)
حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں (کہ انھوںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا)کہ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے کہا کہ آپ کا پروردگار فرماتا ہے:
’’اے حبیب! اگر میںنے آدم کو صفی اللہ کا خطاب دیا توآپ پر تمام انبیاء کو ختم کرکے خاتم النبیین کا خطاب عطا کیا اورمیںنے کوئی مخلوق ایسی پیدا نہیں کی جو مجھے آپ سے زیادہ عزیز ہو۔‘‘(خصائص کبریٰ)