حقانیتِ قرآن

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

سرداران قریش لوگوں کے سامنے قرآن اورصاحب قرآن دونوں کی زبردست مخالفت کرتے تھے،ان کی یہ مخالفت حقائق کی بناپر نہیں تھی،بلکہ محض ضد،ہٹ دھرمی ،انا،تکبر اور ذاتی مفادات کی بناپر تھی۔امام ابن ہشام نے اپنی سیرت میں ایک دلچسپ واقعہ رقم کیا ہے،جس سے اصل حقیقت کا بخوبی اظہار ہوجاتا ہے :۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رات کے تخلیہ میں اللہ کے حضور میں حاضرہو جاتے اور نہایت دلسوزی سے قرآن پاک کی تلاوت فرماتے ،ایک رات ابوسفیان اس روح پرور تلاوت کو سننے کے شوق میں آیا اور ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا،یہی خیال ابوجہل کو بھی آیا،ایک تیسرا کافر اخنس بن شریق بھی وہاں آکر بیٹھ گیا ۔یہ تینوں اسلام کے کٹڑ اور خون آشام دشمن تھے لیکن ایک دوسرے کی موجودگی سے بالکل بے خبر، محویت کے عالم میں ،کیف و مستی کے عالم میں ڈوبے ہوئے،ساری رات قرآن سنتے رہے ۔صبح کی پو پھوٹی تو واپس ہوئے ،ایک دوسرے پر نظر پڑی تو بڑے شرمندہ ہوئے ،ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگے ،کہنے لگے کہ اگر سادہ لوح لوگوں کو خبر ہوگئی کہ ہم رات بھر چھپ کر قرآن سنتے ہیں تو وہ کیا رائے قائم کریں گے ؟لیکن جب دوسری رات آئی تو پھر ہر ایک پر شوق غالب آگیااوروہ یہ سمجھ کر کہ دوسرے تو آئیں گے نہیں ،وہاں چلا آیا۔صبح پھر ان کی ملاقات ہوئی پھر آئندہ ایسی حرکت نہ کرنے کا عہد وپیمان کیا ،لیکن تیسری رات پھر ایسا ہی معاملہ پیش آیا ۔فرط خجالت سے نظریں جھکائے کھڑے رہے اور پختہ عہد کیا کہ آئندہ ایسا ہر گز نہیں کریں گے۔جب دن چڑھا تو اخنس بن شریق ،ابوسفیان کے گھر آیااور کہنے لگا ”اے ابو حنظلہ!مجھے بتاﺅ تم نے جو کلام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)سے سنا ہے اس کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ابوسفیان نے جواب میں ٹال مٹول سے کام لیا،اب اخنس ،ابو جہل کے گھر گیا اور اس سے پوچھا :اے ابوالحکم!تم نے جو کلام محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )سے سنا ہے اس کے بارے میں کیا کہتے ہو؟ابو جہل نے جواب میں کہا ”میں نے خاک سنا ،حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اورعبدمناف کا جھگڑا اس بات پر تھاکہ قوم کا سردار کون ہے؟اس شرفِ سیادت کو حاصل کرنے کےلئے انھوں نے بھی اپنے دسترخوان کو وسیع کیا ،ہر غریب مسکین کو کھانا کھلایااورہم نے بھی دستر خوان کو وسعت کی اورہر غریب مسکین کی ضیافت کا اہتمام کیا انھوں نے بھی لوگوں کے بوجھ اٹھا ئے اورہم نے بھی ،انھوںنے بھی فیاضی سے کام لیا اورہم نے بھی اپنی سخاوت سے سبقت حاصل کرنے کی کوشش کی ،اور جب ہم مقابلہ کے دوگھوڑوں کی مانند ہوگئے تو انھوں نے اچانک علان کردیا ،کہ ہم میں سے ایک شخص کو نبوت ملی ہے اوراس کے پاس آسمان سے وحی اترتی ہے ،ہم یہ دعویٰ کیسے کرسکتے تھے ،بخدا ہم تو ہرگز ان پر ایمان نہیں لائیں گے اورنہ انکی تصدیق کریں گے۔