اوّل بھی ،آخر بھی

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
اوّل بھی ،آخر بھی

٭ حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا’’ہم سب سے آخری اُمت ہیں اورقیامت میں سب سے پہلے ہمارا حساب ہوگااورپکارا جائے گا کہ کہاں ہے اُمت اُمیہ اورکہاں ہیں اس کے نبی؟اس لیے ہم ایک حیثیت سے سب سے اول بھی ہیں اور سب سے آخر بھی ۔(ابن ماجہ)

٭ حضرت علی کرم اللہ الکریم وجہہ فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ مجھے سخت درد لاحق ہوا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے مجھے اپنی جگہ کھڑا کردیا اورخود نماز کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ نے کپڑے کا ایک کنارہ میرے اوپر ڈال دیا پھر ارشادفرمایا :اے علی!تم شفاء یاب ہوگئے اب تم میں کوئی مرض باقی نہیں رہا اورجو کچھ تم اللہ سے میرے لیے دعاء کرو گے میں تمہارے لیے وہی دعاء کروں گا اور جو کچھ میں دعاء کروں گا اللہ تبارک وتعالیٰ قبول فرمائے گا ،اس کے سواء کہ مجھ سے کہہ دیا گیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوسکتا (یعنی نبوت کے علاوہ میں تمہارے لیے ہر نعمت اورفضیلت کی دعاء کرسکتا ہوں)(حضرت علی فرماتے ہیں ) اس کے بعد میں وہاں سے ایسا تندرست و توانا ہوکر اٹھا کہ گویا بیمار ہوا ہی نہیں ۔ (کنزالعمال)
٭ حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اے ابو ذر ! سب انبیاء میں پہلے آدم علیہ السلام ہیں اورسب سے آخر میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )ہیں‘‘۔(کنزالعمال )
٭ حضرت ابوامامۃ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجۃ الوداع کے خطبے میں ارشادفرمایا’’اے لوگو!میرے بعد کوئی نبی ہوگا اورنہ کوئی تمہارے بعدکوئی اُمت ،خبردار !اپنے رب کی عبادت کرتے رہو ، پانچ نمازیں پڑھتے رہو،رمضان المبارک کے روزوں کا اہتمام کرو،اپنے اموال کی زکوٰۃ خوش دلی کے ساتھ دیتے رہواوراپنے امراء کی اطاعت کرتے رہو تو تم اپنے پروردگارکی جنت میں داخل ہوجائو گے۔‘‘(مسند امام احمد بن حنبل)
٭ حضرت عبداللہ بن ثابت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر ابن خطاب رضی اللہ عنہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اورعرض کیا یا رسول اللہ میں بنی قریظہ کے ایک بھائی کے پاس سے گزرا اس نے تورات میںسے کچھ جامع کلمات لکھ کر مجھے دیے ہیں تاکہ وہ آپ کے سامنے پیش کردوں۔یہ سن کر حضور کا چہرہ متغیر ہوگیا اورفرمایا :اس ذات اقدس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کی جان ہے اگر خود موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے درمیان آجائیں اورتم اس وقت ان کی اتباع کرنے لگو تو تم گمراہ ہوجائوگے۔کیونکہ تم تمام امتوںمیںسے صرف میرا حصہ ہواورتمام انبیاء میںسے صرف میں تمہارا حصہ ہوں۔(مسند امام احمد بن حنبل)