سب کے نبی

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
سب کے نبی

٭ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں خدا کے نزدیک اس وقت ہی خاتم النبیین مقرر ہوچکا تھا،جب کہ آدم علیہ السلام ابھی گوندھی ہوئی مٹی کی صورت ہی میں تھے ۔ (مشکوٰۃ)
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرام نے دریافت کیا یارسو ل اللہ آپ کو نبوت کب تفویض ہوئی ،فرمایا اس وقت جب کہ آدم علیہ السلام ابھی روح اورجسم کے درمیان میں تھے ۔(ترمذی)
شیخ تقی الدین سبکی رحمۃ اللہ علیہ ، آیت میثاق النبیین کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ یہ آیت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت وتوقیر اورآپ کے مراتب اعلی کے بیان میں اس قدرواضح ہے کہ اس میں قطعاً کوئی ابہام نہیں ہے۔بایں ہمہ اس تقدیر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اگر انبیاء کے زمانے میں تشریف لے آئیں تو آپ ان سب کی طرف رسول ہونگے گویا آپ کی نبوت اورآپ کی رسالت حضرت آدم علیہ السلام کے زمانے سے قیامت تک کی تمام مخلوق کے لیے عام ہے اورتمام انبیاء کرام اور ان کی ساری امتیں آپ کی اُمت میں داخل ہیں ۔
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے بعثت الی الناس کافۃ یعنی میں تمام نوع انسا نی کی طرف مبعوث کیا گیا ہوں ،یہ ارشادآپ کے عہد رسالت سے قیامت تک کے لوگوں کے لیے خاص نہیں بلکہ آپ سے قبل کے لوگوں کے لیے بھی محیط ہے اوریہی بات آپ کے اس ارشادگرامی سے بھی عیاں ہے کہ میں اُس وقت بھی نبی تھا جب آدم روح اورجسم کے درمیان تھے۔(خصائص کبریٰ)
٭ حضرت ابو قبیلہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’میرے بعد اب کوئی نبی نہیںاورتمہارے بعد اب کوئی اُمت نہیں،پس تم اپنے پروردگارکی عبادت کرتے رہو ،اپنی پانچوں نمازیں صحیح صحیح اداکرتے رہو، ماہِ رمضان کے روزے رکھو اوراپنے حکام کی اطاعت کرتے رہو،تم اپنی(عطا کردہ) جنت میں داخل ہوجائو گے۔ ( طبر انی)
٭ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور اس طرح گویا ہوئے جیسے کوئی رخصت ہونے والا کلام کرتا ہے ۔آپ نے فرمایا: میں نبی اُمی ہوں اورمیرے بعد اب کوئی نبی نہیں ہوگا ،پس جب تک میں تمہارے درمیان موجود ہوں میرے احکام سنو اوران کی اطاعت کرواورجب مجھے دنیا سے اُٹھا لیا جائے تو تم کتاب اللہ کو مضبوطی سے تھامے رہنا اس میں جو حلال ہے اس کو حلال اوراس میں جو حرام ہے اسے حرام سمجھنا ۔ (مسنداحمد)

٭٭٭٭٭٭