کسب، رزق ،برکت(۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
کسب، رزق ،برکت(۱)

اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشادہے: ’’اورجو (خوش بخت)ڈرتارہتا ہے اللہ تعالیٰ سے بنادیتا ہے اللہ اس کیلئے نجات کا راستہ اوراسے (وہاں سے)رزق دیتا ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔ اورجو (خوش نصیب )اللہ پر بھروسہ کرتا ہے تو اس کیلئے وہ کافی ہے بے شک اللہ تعالیٰ اپنا کام پورا کرنے والا ہے ،مقرر کررکھا ہے اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کیلئے ایک اندازہ۔‘‘(سورہ الطلاق:۳،۲)
’’جب ہم کسی مشکل میں پھنس جاتے ہیں تو اس سے نکلنے کیلئے جائزوناجائزحرکات کے ارتکاب میں ذرا تامل نہیں کرتے ،غربت وافلاس کی گرفت سخت ہوجائے تو رشوت ،چوری ،لوٹ گھسوٹ اورحرام خوری کی طرف مائل ہوجاتے ہیں ۔کسی مقدمہ میں پھنس جائیں تو اس میں کامیاب ہونے کیلئے جھوٹی گواہی سے کام چلالیتے ہیں ۔دشمن کا دبائو بڑھ جائے تو جھوٹ اورمکروفریب سے گلوخلاصی کی تدبیریں سوچنے لگتے ہیں۔ درحقیقت یہ سب نفس کافریب اورشیطان کا دھوکہ ہے۔ایسا کرنے سے مشکلیں گھٹتی نہیں، بڑھتی ہیں، مطلعِ حیات مزید ابرآلود ہوجاتا ہے، ناکامیاں اور رسوائیاں انسان کا مقدر بن جایا کرتی ہیں۔اس کے برعکس قرآن کریم نے مشکلات سے نجات پانے اور مصائب کے نرغے سے رہائی حاصل کرنے کا ایک طریقہ بتایا ہے،وہ یہ کہ اپنے دل میں خوفِ خداپیدا کرلو،جن کاموں سے اس نے روکا ہے بھولے سے بھی انکے قریب مت پھٹکو، جن احکام کی بجاآوری کا اس نے حکم دیا ہے انکی پوری طرح پابندی کرو،اس کی یاد اوراسکے ذکر میں صدقِ دل سے مشغول ہوجائو،تم دیکھوگے کہ اس کا دستِ کرم کس طرح آگے بڑھ کر تمہاری چارہ سازی کرتا ہے ۔ اسکی چشمِ رحمت کس طرح تمہاری بگڑی بناتی ہے ۔وہ اپنے خزانوں کے منہ تمہارے لیے کس طرح کھول دیتا ہے ۔اس آیت طیبہ میں بندئہ مومن کو اسکی یقینی نجات ،حقیقی کامرانی اورسچی خوشی کا راستہ دکھایا گیا ہے، کاش ہم کان کھول کر سن لیں ،دلوں میں اس کو جگہ دیں اورصدقِ دل سے اس پر عمل کریں۔حضرت ابوذررضی اللہ عنہ سے مروی ہے :رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے یہ آیت سناتے رہے اورجب فارغ ہوئے تو ارشادفرمایا اے ابوذر !اگر سارے لوگ اس پر عمل کرنا شروع کردیں تو یہ آیت ان سب کیلئے کافی ہوجائے۔(قرطبی)جو شخص اپنا کام اللہ تعالیٰ کے سپرد کردیتا ہے وہ اس کا ذمہ دار ہوجاتا ہے اس سے کوئی یہ نہ سمجھے کہ توکل کا معنی عمل سے لاتعلق ہوجانا ہے اوراسباب سے قطعِ نظر کرنا ہے۔توکل کایہ مقصد نہیںبلکہ اس کا یہ مقصد ہے کہ اسباب بجالائے لیکن نتائج کے ظہور کیلئے اسباب پر اعتماد نہ کرے ۔ صرف اپنے رب پر بھروسہ کرے۔بے عملی اور جدوجہد سے بیزاری کا اسلام کے نظریہ ء توکل سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے جوارادہ فرمایا ہے وہ اس کو پورا کرکے رہتا ہے کوئی چیز اسکے ارادے کے سامنے رکاوٹ نہیں بن سکتی۔‘‘(ضیاء القرآن )