توبہ کا مفہوم

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
 توبہ کا مفہوم

اللہ تعالیٰ کے توبہ قبول کرنے کا معنی یہ ہے کہ جس گناہ سے بندہ توبہ کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس گناہ کی سزانہیں دیتا اوراس پر مواخذہ نہیں کرتا اوربندے کی توبہ کرنے کا معنی یہ ہے کہ اس سے جوگناہ ہوگیا ہے اس پر نادم ہو اوردوبارہ اس گناہ کو نہ کرنے کا عزم صمیم کرے ۔اگر اس سے فرائض اورواجبات رہ گئے ہیں تو ان کو قضا کرے‘ اگرکسی کا مال غصب کرلیاتھا یا چوری کرلیا تھا تو اس کا مال اس کو واپس کردے اورجس طرح پہلے اس نے گناہ میں کوشش کی تھی اسی طرح اب اطاعت اور عبادت میں کوشش کرے اورجس طرح اس کو پہلے گناہ میں لذت حاصل ہوئی تھی اب عبادت میں لذت حاصل کرے اورہنسنا کم کردے اورروئے زیادہ۔ (تبیان القرآن)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا کہ مومن اپنے گناہوں کو اس طرح سمجھتا ہے کہ وہ ایک پہاڑ کے نیچے بیٹھا ہوا ہے اوراس کو یہ خطرہ ہے کہ وہ پہاڑ اسکے اوپر گرپڑیگا اورفاجر اپنے گناہوں کو اس طرح دیکھتا ہے جیسے اس کی ناک پر مکھی بیٹھی ہوئی ہے اوروہ ہاتھ جھٹک کر اس مکھی کو اڑادیگا‘پھر آپ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو اپنے بندے کی توبہ پر اس شخص سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جو اپنی سواری سے کسی مقام پر پہنچا اوراس سواری پر اسکے کھانے پینے کی چیزیں تھیں‘ اس نے سواری سے اتر کر اپنا سررکھا اورسوگیا اورجب وہ بیدارہوا تو اسکی سواری وہاں سے جاچکی تھی ‘ گرمی بہت شدید تھی اوراس کو سخت پیاس لگی ہوئی تھی ‘ وہ پھر اپنی جگہ لوٹ آیا اورپھر سوگیا ‘ پھر سراٹھا کر دیکھا تواسکی سواری وہاں موجود تھی۔(صحیح بخاری ، صحیح مسلم، ترمذی )حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے کوئی شخص یہ ہر گز نہ کہے کہ اے اللہ ! اگر تو چاہے تو میری مغفرت فرما اوراگر تو چاہے تومجھ پر رحم فرما ‘ اس کو چاہیے کہ پورے عزم اوراصرار سے سوال کرے کیونکہ اللہ تعالیٰ کو کوئی مجبور کرنے والا نہیں ہے۔(صحیح بخاری ، صحیح مسلم، ترمذی، ابودائود، ابن ماجہ)
حضرت سلمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک تمہارا رب تبارک وتعالیٰ حیاء دار کریم ہے‘جب اس کا بندہ اس کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے تو وہ اسکے ہاتھوں کو خالی لوٹانے سے حیاء فرماتا ہے۔ (سنن ابودائود، سنن ترمذی ، سنن ابن ماجہ)۔ ابی الجون بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ تعالیٰ کو توبہ کرنیوالے کی توبہ سے اس سے زیادہ خوشی ہوتی ہے جتنی پیاسے کو پانی پرجانے سے خوشی ہوتی ہے اورجتنی بانجھ عورت کو بچہ کی پیدائش سے خوشی ہوتی ہے اورجتنی کسی شخص کو گم شدہ چیز کے ملنے سے خوشی ہوتی ہے ‘پس جو شخص اللہ تعالیٰ سے خالص توبہ کرے تواللہ تعالیٰ کراماً کا تبین سے اوراس کے اپنے اعضاء سے وہ گناہ بھلادیتا ہے اورتمام روئے زمین سے اسکے گناہوں کے آثار مٹادیتا ہے۔ (الجامع الصغیر ، کنزالعمال )