عالمگیر پیغام (۱)

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

خطہءزمین پر انسان کی بودوباش کے بعد اس کی ضروریات دوطرح کی تھیں ۔ ایک جسمانی اور دوسری روحانی ۔ اللہ جو رب العالمین ہے ، اس نے انسان کوکسی بھی اعتبار سے تنہا اور بے یارومددگار نہ رہنے دیا ۔ اللہ نے انسان کے رزق کے لیے زمین کوصلاحیت نمو بخشی ، سمندروں کی وسعت میں اس کے اسباب پیداکیے ۔ سورج کی روشنی اور آسمان کے بادل ممدو معاون ہوئے اسباب وسائل کی فراوانی کے ساتھ ساتھ انسان کو عقل ،شعور بھی عطاکیااور انہیں ان اسباب کو بروئے کار لانے کی صلاحیت سے بھی متصف کیاگیا ۔ یہ کیسے ممکن تھاکہ خدا انسان کے لیے مادی وسائل توبہم پہنچائے ، لیکن روحانی تشنگی کا مداوا نہ کرے ۔ یہ اس لیے بھی ضروری تھا کہ مجرد عقل پر اعتماد کرتے ہوئے انسان صراط مستقیم کا سراغ لگابھی نہیں سکتا۔ انسان کی روحانی اصلاح کے لیے اور اسے ہدایت کی منزل کی طرف گامزن کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبوت ورسالت کا مبارک سلسلہ جاری کیا ۔ قرآن اس امر کا واشگاف اعلان کرتا ہے کہ دنیا کی کسی بھی قوم کو اللہ کی اس رحمت سے محروم نہیں کیا گیا ۔کوئی امت ایسی نہیں جس ( اللہ کی طرف سے کوئی ) نذیر ( جنجھوڑنے والانہیں آیا)(رعد ۱۳۔۷)دوسرے مقام پر ارشاد ہوتاہے ۔ ہرقوم کوہدایت دینے والا آیا ہے۔(نمل ۱۶۔۳۶)بے شک ہم نے ہر امت میں رسول مبعوث کیے ہیں۔ ان انبیائے کرام نے اپنے اپنے علاقے میں اور اپنی اپنی قوم میں بڑی محنت ، تند ہی اور جاں فشانی سے اللہ کا پیغام پہنچایا اور مقدور بھر ان کی اصلاح کی کوشش کی ، قرآن مقدس ، دیگر مقدس سماویہ اور مذاہب عالم کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت سامنے آتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ سے پہلے جتنے بھی پیغمبر ہادی ،نبی تشریف لائے کسی نہ کسی مخصوص قوم ، علاقے اورمخصوص وقت کے لیے مبعوث ہوئے ۔ انہیں ایک مخصوص ذمہ داری دی گئی جسے انہوں نے بطریق احسن نبھایا حضرت نوح علیہ السلام کاتذکرہ کرتے ہوئے ارشاد ہوتاہے ”بے شک نوح علےہ السلام کو ان قوم کی طرف بھیجاگیا“( الذاریات ۵۹۔۷) حضرت ہود علیہ السلام قوم عاد کی طرف بھیجے گئے” قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود آئے “( الاعراف ۷۔۶۵) صالح علیہ السلام کے لیے کہاگیا(قوم ) ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح آئے( الاعراف ۷۔۷۳)حضرت شعیب علیہ السلام کے متعلق فرمایاگیا۔”اورمدین کی طرف ان کے بھائی شعیب آئے “(الاعراف ۷۔۸۵)حضرت موسیٰ کا ذکر یوں ہوتاہے ۔” ہم نے موسیٰ پرکتاب اتاری اوراسے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا“ (بنی اسرائیل ۱۷۔۲)قرآن مےں حضرت عیسیٰ علےہ السلام کا قول ےوں بےان کےاگےا ہے ”اور جب عیسٰی ابن مریم نے کہا اے بنی اسرائیل میں تمہاری طرف اللہ کارسول ہوں“۔ ( الصف ۶۱۔۶)