وہب بن قابوس کی شہادت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی

وہب بن قابوس اوراُن کے بھتیجے حارث مزینہ سے شوقِ اسلام میں مدینہ منورہ حاضر ہوئے ۔خبر ملی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میدانِ اُحد میں ہیں، دونوںنے اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کیا اورمیدان اُحد میں پہنچ گئے ۔یہاں معرکہ کارزار گرم تھا، یہ وہ وقت تھا جب خالد اورعکرمہ مسلمانوں پر عقب سے حملہ آور ہوچکے تھے۔یہ بھی ڈٹ گئے، اتنے میں مشرکین کا ایک اور جتھا نظر آیا، حضور علیہ الصلوٰة والسلام نے استفسار فرمایا:ان سے کون نبٹے گا، وہب نے عرض کیا میں، یہ کہہ کر اس قدر تیر باری کی کہ وہ گروہ واپس ہونے پر مجبو رہوگیا پھر ایک دوسرا گروہ نمودار ہوا،حضور نے پھر پوچھا: وہب نے اس کے مقابلے کے لیے بھی خود کو پیش کیا اور اس جرا¿ت سے حملہ آور ہوئے کہ اس جتھے کا منہ بھی پھیر دیا۔اتنے میں ایک تیسرا جتھا دکھائی دیا اوراس سے مقابلہ کرنے کے لیے بھی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے استفسار پر وہب ہی نے اپنے آپ کو پیش کیا۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بشارت دی کہ جاﺅ جاکر جنت حاصل کرلو!یہ مژدہ جاں فضا ءسن کر ایک عالم شاد مانی و سرشاری میں یہ کہتے ہوئے آگئے بڑھے ”نہ کسی کو چھوڑوں گا اورنہ ہی اپنے بچاﺅ کی کوشش کروں گا“۔
مشرکین کے جم غفیرگھس گئے اورتلوار لہراتے ہوئے اس پار سے اس پار نکل گئے ،صحابہ کرام اُن کی جرا¿ت وبہادری دیکھ کر آفرین کہہ رہے تھے اورحضور علیہ الصلوٰة والسلام دعافرمارہے تھے کہ اللہ کریم اس پر رحم فرما۔ وہب بڑی دیر تک بڑی حیرت انگیز جرا¿ت و جاں نثاری کے ساتھ معرکہ آزمارہے ، بلاآخر مشرکین نے چار وں طرف سے نرغہ میں لے کر تیروں اورتلواروں کی بارش کردی، وہب زخم پہ زخم کھاکر خلعتِ شہادت سے سرفرازہوگئے ۔شہادت کے بعد مشرکین نے نہایت بری طرح مثلہ کردیا، ان کے بھتیجے یہ منظر دیکھ کر بے قابو ہوگئے اوربے تابانہ اٹھ کر اُسی بہادری اوربے جگری سے لڑے اورشہید ہوگئے ۔ حضور پر ان کی شہادت کا بڑا اثر تھا ، دونوں کی لاشوں پر کھڑے ہوکر فرمایا:میں تم سے راضی ہوں۔ان کی لاشوں کا اس بری طرح مثلہ کیا گیا تھا کہ نظر ڈالنے کی ہمت نہ ہوتی ، حضور خود تشریف لے گئے تدفین تک ان کے پائنی کی سمت کھڑے رہے ، قبر میں رکھنے کے بعد اپنے دستِ مبارک سے پھول دار چادر اڑھائی ، چادر چھوٹی تھی، آپ نے پاﺅں پر حرملہ گھاس ڈلوائی اوراپنے ہاتھوں سے مٹی دے کر واپس ہوئے ۔ قبول اسلام کے بعد ان کا ایک لمحہ بھی دنیا میں ملوث نہ ہوا اورسیدھے جنت الفردوس میں پہنچ گئے ۔ اس طیب وطاہر زندگی اورشہادت پر بڑے بڑے صحابہ رشک کرتے تھے۔ حضرت عمر اورحضرت سعد فرماتے تھے ، کاش ! مزنی کی شہادت ہمیں نصیب ہوتی۔(ابن سعد)