شانِ ختم المرسلین

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
شانِ ختم المرسلین

٭ حضرت جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں میںنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا ’’میرے کئی نام ہیں ، میں محمد ہوں، میں احمد ہوں، میں ماحی ہوں،یعنی اللہ میرے ذریعے سے کفر کو مٹا دے گا ۔میں الحاشر ہوں ،لوگ حشر کے دن میرے قدموں پر جمع ہونگے۔میں العاقب ہوںاورمیرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا‘‘۔ (متفق علیہ )

٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’اے لوگو! نبوت کا کوئی جز باقی نہیں سوائے اچھے خوابوں کے ۔‘‘(صحیح بخاری)
٭ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ حدیث شفاعت میں روایت کرتے ہیںکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:
کہ قیامت کے دن لوگ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے شفاعت کے لیے عرض کریں گے تووہ کہیں گے کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)کے پاس جائو ، لوگ میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے ،اے محمد آپ اللہ کے رسول ہیں اورآخری نبی ہیں ۔(صحیح مسلم شریف)
٭ حضرت عرباض بن ساریہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا میںاللہ کا بندہ اورآخری نبی ہوں۔ (بیہقی)
٭ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’میں تمام رسولوں کا پیشوا ہوں اورکوئی فخر نہیں ، میں خاتم النبیین ہوں اورکوئی فخر نہیں ،میں قیامت کے دن پہلاشفاعت کرنے والا اورمقبول الشفاعت ہوں اور کوئی فخر نہیں۔(دارمی)
٭ حضرت عمر بن خطاب ایک طویل روایت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک معجزہ کا ذکر کرتے ہوئے روایت فرماتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک اعرابی کو اسلام کی دعوت دی تو اس نے کہا جب تک یہ گوہ ایمان نہ لائے میں بھی آپ پر ایمان نہیں لاسکتا ۔
آپ نے ارشاد فرمایا :اے گوہ !تو بتا کہ میں کون ہوں؟گوہ نے نہایت فصیح عربی میں جواب دیا، جسے سب حاضرین نے سمجھا ،اے رب العالمین کے رسول میںحاضر ہوں اورآپ کی فرمانبرارہوں ،آپ نے فرمایا تو بتا کہ تو کس کے نام کی تسبیح کرتی ہے تو وہ بولی جس کا عرش آسمان پر ہے اورجس کا حکم زمین پر نافذ ہے ،جس نے سمندر میں راستے بنادیے ،جس کی رحمت کا مظہر جنت اورجس کے عذاب کا مظہر دوزخ ہے۔آپ نے استفسارفرمایا: میں کون ہوں؟اس نے جواب دیا،آپ رب العالمین کے رسول اورخاتم النبیین ہیں۔(الخصائص الکبریٰ)