عبادت

کالم نگار  |  رضا الدین صدیقی
عبادت


قرآن مقدس کی رو سے انسان کی تخلیق بے مقصد نہیں ہے۔ بلکہ اس کی زندگی کا ایک واضع اور غیر مبہم مقصد ہے، اور وہ ہے ”عبادت“۔ لفظ ”عبادت“سے ذہن فوراً کچھ ایسے معمولات کی طرف جاتا ہے۔ جو عام طور پر عبادت کے حوالے سے ”متعارف“ ہیں۔ ان معمولات کے عبادت میں ہوتے ہیں کوئی شک و شبہ نہیں۔ لیکن واقعہ یہ ہے کہ اسلام میں تصور عبادت ایک وسیع مفہوم کا حامل ہے۔
لغتِ عرب میں انتہائی انکساری اور عاجزی کو ”عبادت“کہا جاتا ہے۔ امام راغب اصفہانی کہتے ہیں عبادت کا معنی ہے غایةُ التذلل یعنی انتہاءدرجہ کی انکساری، صاحب لسان العرب ابن منظور لکھتے ہیں : معنی العبادة فی اللغة الطاعة مع الخضوع۔ عبادت کے معنی ایسی اطاعت کے ہیں جس میں خضوع پایا جائے۔
گویا کہ لفظ ”عبادت“ اپنی ذیل میں انتہائی عاجزی، انکساری اور اظہار فروتنی کا مفہوم رکھتا ہے۔ قرآن مقدس میں عبادت کا متضاد لفظ ”تکبر“ استعمال ہوا ہے۔ جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں وہ سب جہنم میں داخل ہوں گے۔ (المومن 60)٭اور جسے اللہ کی عبادت سے عار ہو اور وہ تکبر کرے تو اللہ ان سب کو جلد ہی اپنے ہاں جمع کرے گا۔ (النساء172)
عبادت کا اصل مفہوم عاجزی اور انکساری ہے۔ لیکن جب اس کی نسبت اللہ تبارک وتعالیٰ کی طرف ہو تو اس میں محبت والفت کا عنصر بھی شامل ہو جاتا ہے۔ یعنی عبادت الہٰی وہ عاجزی اور انکساری ہے، جو اللہ تبارک و تعالیٰ کی محبت الفت میں وارفتہ ہوکر کی جائے۔ امام ابن کثیر کہتے ہیں: عبادت کے لغوی معنی پست ہونے کے ہیں۔ کہتے ہیں ”طریق معبد“ یعنی وہ راستہ جو پامال ہوتا ہو۔ ”بعید معبد“ وہ اونٹ جو سرکشی چھوڑ کر مطیع و فرمانبردار بن گیا ہو۔ شریعت میں اس سے مراد ایسی کیفیت ہے۔ جس میں انتہائی محبت کے ساتھ انتہائی خضوع اور خوف شامل ہو۔“ (تفسیر ابن کثیر) علامہ ابن قیم لکھتے ہیں ۔”عباد ت کے دو جز ہیں۔ انتہائی محبت اور انتہائی عاجزی اور انتہائی پستی کے ساتھ “۔گویا کہ عبادت زبردستی کی عاجزی یا انکساری کا نام نہیں بلکہ دل کے میلان کا نام ہے، جو پورے شعور سے ایک بالاتر ہستی کا اعتراف کرے، اس کے جمال کی محبت سے سرشار ہوکر اور اس کے جلال کی ہیت سے مرعوب ہوکر پوری آمادگی کے ساتھ اس کے سامنے سر تسلیم خم کردے، اور یہ جذبہءتسلیم ورضا ءچند معمولات ورسومات تک محدود نہیں بلکہ پوری انسانی زندگی کے تمام اعمال کو محیط ہے۔ ہروہ عمل جو اللہ کے عطاءفرمودہ ضابطے کے مطابق ہو اور جس کا منشاءومقصود رضائے الہٰی ہو ”عبادت“ ہے۔
ہر جا کہ می رود منِ بے چارہ می روم
باشد عنانِ ما بکفِ اختیارِ دوست