یونیورسٹیوں: کے نتائج

لاہورہائیکورٹ نے پنجاب کی چھ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

درخواست گزارامیر حسن سمیت چھ افراد نے پنجاب کی چھ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ چھ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتیاں خلاف قانون کی جارہی ہیں ۔ وائس چانسلر کی تقرری کے لیے بنائی گئی سلیکشن کمیٹی کو آئینی تحفظ حاصل نہیں اس لیے تعیناتیاں بھی غیر قانونی ہیں ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے آج فیصلہ سناتے ہوئے تمام درخواستیں مستر کردی ہیں۔ عدالت نے

لاہورہائیکورٹ نے پنجاب کی چھ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتی کے خلاف دائر درخواستیں مسترد کردی ہیں۔

درخواست گزارامیر حسن سمیت چھ افراد نے پنجاب کی چھ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتیوں کولاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ درخواستوں میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ چھ یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرز کی تعیناتیاں خلاف قانون کی جارہی ہیں ۔ وائس چانسلر کی تقرری کے لیے بنائی گئی سلیکشن کمیٹی کو آئینی تحفظ حاصل نہیں اس لیے تعیناتیاں بھی غیر قانونی ہیں ۔ عدالت نے فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ لاہور ہائیکورٹ نے آج فیصلہ سناتے ہوئے تمام درخواستیں مستر کردی ہیں۔ عدالت نے

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کی چھ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کی تعیناتی کے طریقہ کار کے خلاف کیس میں گورنر پنجاب کو فریق بنانے کی درخواست پر نوٹس جاری کر دئیے۔

درخواست گزار حسن امیر علی سمیت دیگر نے عدالت میں متفرق درخواست دائر کی کہ گورنر پنجاب یونیورسٹیوں کے چانسلر ہیں اس لیے عدالت گورنر کو فریق بنانے کی اجازت دے۔ عدالت نے درخواست گزاروں کی استدعا منظور کرتے ہوئے گورنر پنجاب کے سپیشل سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے دس جون کو جواب طلب کرلیا۔ درخواست گزاروں نے موقف اختیار کررکھا ہے کہ پنجاب کی چھ یونیورسٹیوں میں آئین سے ہٹ کر وائس چانسلرز تعینات کیے جارہے ہیں لہذا عدالت اس ممکنہ اقدام کو روکے۔

مزید نتائج