یورینیم: کے نتائج

بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا یورینیم کا ذخیرہ برآمد ہونیکا انکشاف

دہلی (بی بی سی اردو + اے ایف پی) بھارت کی جنوبی ریاست آندھرا پردیش کی ایک کان کے اندر دنیا میں یورینیم کا سب سے بڑا ذخیرہ ہو سکتا ہے لیکن اس کے باوجود ملک کو یورینیم درآمد کرنے کی ضرورت ختم نہیں ہو گی۔ بھارت میں جوہری توانائی کے کمشن کے سربراہ ایس بینرجی نے کہا ہے کہ یہ کان جس

یورینیم افزودگی کی اگر موجودہ شرح برقرار رہی تو ایران دو ماہ میں ایٹم بم سمیت کوئی بھی جوہری ہتھیار بنا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے ادارے اٹامک واچ ڈاگ نے عالمی جوہری توانائی ادارے کی رپورٹ کے تناظر میں ایران کے ایٹمی پروگرام پرتحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یورنیم افزودگی کی موجودہ شرح برقرار رہی تو ایران آٹھ ہفتوں کے بعد جوہری ہتھار بنانے کے قابل ہوجائے گا۔ رپورٹ کے مطابق تہران میں واقع پلانٹ اڑتیس اعشاریہ تین کلو گرام یورینیم افزودہ کرچکا ہے اسی شرح سے وہ دو ماہ میں مزید بیس کلو یورینیم افزودہ کرلے گا جو کسی بھی جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے درکار یورینیم کا نوے فیصد ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ

ممتازسائنسدان ڈاکٹر ثمرمبارک مند نے سپریم کورٹ میں بیان دیا ہے کہ یورینیم کے برعکس سونا اور تانبہ نکالنا زیادہ آسان ہے، اگر یہ کام ہم خود کریں تو معیشت مستحکم ہوگی۔

سپریم کورٹ میں رکوڈک کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں قائم بینچ نے کی۔ سماعت کے دوران ڈاکٹر ثمر مبارک مند نےعدالت کو بتایا کہ ہماری کاپر کی سالانہ ضرورت ایک لاکھ ٹن ہے اور خوش قسمتی سے اس چھوٹے سے علاقے سے پینتالیس ہزار ٹن کاپر مل سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب بلوچستان میں انڈسٹری رہے گی تو لاکھوں لوگوں کو روز گار ملےگا۔غیرملکی کمپنی کےمشیرڈاکٹر زبیر نے کہا کہ پانچ ٹرک خام پیداوارمیں سے صرف ایک انگوٹھی کا سونا نکلتا ہے یہ کوئی سونے کی اینٹیں نہیں جو ہم اٹھا کرلے جائیں

مزید نتائج