تازہ ترین:

ہڑتالی: کے نتائج

کراچی ایلیکٹرک سپلائی کارپوریشن اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان تناؤ، کے ای ایس سی نے کراچی میں اپنے آپریشنز بند کردیئے۔

کے ای ایس سی کے ہڑتالی ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان جاری محاذ آرائی میں چودہ جولائی سے مزید شدت آگئی جب کے ای ایس سی یونین کی جانب سے گورنر ہاؤس کے قریب دھرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گزشتہ چھ روز سے جاری دھرنے اور مسلسل تین ماہ احتجاج میں اضافے نے کراچی کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے سی ای او تابش گوہر نے گورنر اور وزیراعلٰی سندھ کو تحری طور پر احتجاجی ملازمین کی شرپسند کارروائیوں کو روکنے کی درخواست کی ہے۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور

کراچی ایلیکٹرک سپلائی کارپوریشن اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان تناؤ، کے ای ایس سی نے کراچی میں اپنے آپریشنز بند کردیئے۔

کے ای ایس سی کے ہڑتالی ملازمین اور انتظامیہ کے درمیان جاری محاذ آرائی میں چودہ جولائی سے مزید شدت آگئی جب کے ای ایس سی یونین کی جانب سے گورنر ہاؤس کے قریب دھرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ گزشتہ چھ روز سے جاری دھرنے اور مسلسل تین ماہ احتجاج میں اضافے نے کراچی کے شہریوں کو لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کررکھا ہے۔ کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کے سی ای او تابش گوہر نے گورنر اور وزیراعلٰی سندھ کو تحری طور پر احتجاجی ملازمین کی شرپسند کارروائیوں کو روکنے کی درخواست کی ہے۔ کراچی میں بڑھتی ہوئی کارروائیوں اور

کراچی میں کے ای ایس سی انتظامیہ اور ہڑتالی ملازمین کے درمیان جاری تنازع حل نہیں ہوسکا جس کا خمیازہ شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

کراچی میں کے ای ایس سی انتظامیہ اور ہڑتالی ملازمین کی جنگ سے سب سے زیادہ شہری ہی متاثر ہوئے ہیں۔ شہر کے اکثر علاقوں میں بجلی غائب ہے جبکہ ہڑتال پر گئے ملازمین ایک طرف تو احتجاج کر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب فالٹس درست کرنے کے لئے شہریوں سے پانچ سے دس ہزار روپے تک وصول کرکے دیہاڑیاں لگارہے ہیں۔عوام کا کہنا ہے کہ انہیں کے ای ایس سی انتظامیہ اورملازمین کے تنازع سے کوئی سروکار نہیں لیکن دونوں کی باہمی لڑائی کی سزا انہیں بجلی غائب ہونے کی صورت میں نہیں ملنی چاہیے۔انہوں نے بتایا کہ وہ اپنی مدد آپ کے تحت

مزید نتائج