یہ ریمارکس چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے پنجاب اسمبلی کے باہر طلبہ پر تشدد ازخود نوٹس کیس اور کالجز میں بورڈ آف گورنرز کے قیام کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ انہوں نے قرار دیا کہ عدالت عوامی خواہشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کے تحت فیصلہ کرتی ہے۔ فاضل عدالت کا کہنا تھا کہ اگر بورڈ آف گورنرز کو ہر فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے تو اسکے قیام کا کیا جواز ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں کا کام پالیسیاں مرتب کرنا نہیں، حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے