جہاں ایک طرف ٹارگٹ کلنگ اوراور گروہی تصادم کی لپیٹ میں آنے والے گھرانوں میں صف ماتم بچھی ہوئی ہے وہیں ناکردہ گناہوں کی سزا کے نتیجے میں دنیا سے منہ موڑنے والوں کے لواحقین اپنے پیاروں کی میتوں کے حصول کے سلسلہ میں دوہرے عذاب سے دوچار ہیں۔پر تشدد واقعات کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کے لواحقین کو ان حالات میں یقینی طور پر ہمدردی اور دلاسے کی ضرورت ہے لیکن ستم ظریفی دیکھئے کہ ناقص حکمت عملی اور قاعدے قانون کے نام پر ان کے زخموں پر مزید نمک چھڑکا جارہا ہے۔ایک طرف وہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں