تازہ ترین:

کے مقدمہ: کے نتائج

سیالکوٹ میں وحشیانہ تشدد سے دو سگے بھائیوں کی ہلاکت کے مقدمہ میں گرفتار ملزموں سے تفتیش جاری ہے، پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر تشدد میں استعمال ہونے والے ڈنڈے اور لاٹھیاں برآمد کرلی ہیں ۔

تھانہ کینٹ کی حوالات میں بند ان ملزمان کی ملاقات پرمکمل پابندی عائد  ہے جبکہ پولیس کی بھاری نفری  تعینات کی گئی ہے۔ دوسری طرف سانحہ سیالکوٹ کے مقدمہ کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر شہنشاہ بخاری کو بھی فرائض میں غفلت برتنے پر گرفتار کرلیا گیا ہے۔ ایڈیشنل آئی جی مشتاق سکھیرا کی سربراہی میں سانحہ  کی تحقیقات کرنے والی پانچ رکنی ٹیم نے سابق ڈی پی او سیالکوٹ وقار احمد چوہان اور سابق ایس ایچ او انسپکٹر رانا الیاس سمیت دس اہلکاروں کو نعشوں کی بے حرمتی کا قصور وار قرار دیا ہے۔ ان پولیس افسران اور

سیالکوٹ پولیس نے دوبھائیوں کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار سترہ ملزموں کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کرلیا۔ وقار احمد چوہان اور دیگر گرفتار پولیس اہلکاروں کو کل عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

سانحہ سیالکوٹ میں ملوث سترہ گرفتار ملزموں کو گوجرانوالہ کی انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نمبر دو میں پیش کیا گیا ۔ پولیس نے واقعہ میں استعمال ہونے والے ڈنڈے، سریے اور رسیوں کی برآمدگی کیلئے ملزمان کے سات روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جسے عدالت نے منظور کرتے ہوئے ملزمان کوتفتیش کیلئے پولیس کے حوالے کردیا۔ ملزموں کو عدالت پیش کیا گیا تو ان کے منہ کپڑے سے ڈھانپے ہوئے تھے۔ فاضل جج رانا نثار احمد کےاستفسار پرپولیس نے بتایا کہ ملزمان کے چہرے انکی خواہش کے تحت ڈھانپے گئے ہیں۔ عدالت کے دریافت