اس بات کا انکشاف پبلک اکاونٹس کمیٹی کے اجلاس میں کیا گیا جس کی صدارت کمیٹی کے چیئرمین چوہدری نثارعلی خان نے کی۔ اجلاس میں وزارت ماحولیات، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور وزارت قانون و انصاف کے آڈٹ اعتراضات کا جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری ماحولیات جاوید ملک نے اجلاس کو بتایا کہ پاکستان میں آبی آلودگی کی وجہ سے آبی حیات کی زندگی خطرے میں ہے۔ اس وقت چھیاسی ہزارمقامات پر دریاؤں میں کیمیائی فضلات شامل ہورہے ہیں، جس کی روک تھام کے لئے ایکشن پلان تیارکیا جارہا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے آڈٹ اعتراضات پر کمیٹی