تازہ ترین:

کوخطرات: کے نتائج

سندھ کے مختلف مقامات پرحفاظتی بندوں اورکیرتھر کینال میں شگاف کے باعث ٹھٹھ،شہدادکوٹ،دادو اور رتوڈیرو کوخطرات لاحق ہیں۔ 

دریائے سندھ کا سیلابی پانی قمبرشہداد کوٹ کے دیہات میں تباہی مچانے کے بعد ضلع دادو کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے باعث ڈی سی او دادو نے ضلع کے تمام دیہات خالی کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح منچھر جھیل سے زیادہ ہے جس کے باعث مزید کئی علاقے زیرآب آسکتے ہیں۔ضلع ٹھٹھہ میں بھریا شیدی موری اور وسو بروہی کے مقام پر حفاظتی بند میں شگاف پڑنے کے بعد ٹھٹھہ شہرسے تقریباً ستر فیصد آبادی کا انخلا ہوچکا ہے، تاہم اب بھی ہزاروں لوگ شہر میں موجود ہیں۔ بند کے پشتوں پر

جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں پانی اترنے کے بعد لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی ، گیسڑو اوردیگروبائی امراض پھیلنے سے لاکھوں بچوں کی زندگیوں کوخطرات لاحق ہیں۔

جنوبی پنجاب کے اضلاع میانوالی،بھکر،لیہ،مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازیخان اوررحیم یار خان میں پانی اترنے کے بعد زندگی کسی حد تک معمول پرآرہی ہے، متاثرین اپنے گھروں کو واپس پہنچنا تو شروع ہوگئے ہیں لیکن حکومتی امداد نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے گھردوبارہ تعمیرکرنے کے قابل نہیں ۔ طبی مراکز اور ہسپتال زیرآب آنے کی وجہ سے لوگوں کو صحت کی سہولیات کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ لوگوں میں تیزی سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں اور خاص طورپربچے شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ عالمی ادروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس