تازہ ترین:

کالجز: کے نتائج

برطانیہ نے سختی نہیں کی‘ نئے قوانین طلباءاور کالجز کے حق میں ہیں: خالد محمود‘ سہیل احمد

برسلز (نامہ نگار) تعلیم انسان کا زیور ہے جسے حاصل کرنے کیلئے انسان کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہئے اور جو لوگ تعلیم کو ڈھال بنا کر تعلیم اور طلباءکے ساتھ فراڈ اور مذاق کرتے ہیں انہیں عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔ ان خیالات کا اظہار خالد محمود اور سہیل احمد نے کیا جو برطانیہ و یورپ

ایوان کارکنان تحریک پاکستان لاہورمیں مخلتف کالجز اور یونیورسٹیز کے طلباء وطالبات کے درمیان تقریری مقابلے کاانعقاد کیا گیا

لاہورمیں ایوان کارکنان تحریک پاکستان میں نظریہ پاکستکان ٹرسٹ کے زیراہتمام منعقدہ اس مقابلے کا موضوع شاعرمشرق علامہ محمد اقبال کی نظم شکوہ اورجواب شکوہ سے لیاگیاتھا۔ تقریری مقابلے کی صدارت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے پروفیسر غلام سرور رانا نے کی ۔ طلباء وطالبات نے اپنی تقریروں میں کہا کہ شاعرمشرق علامہ محمد اقبال نے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کرکے مسلمانوں میں آزادی کا جذبہ پیداکیا وہ دانائی ، حکمت ، فکر اورنظریے کی علامت تھے۔ان کا کہنا تھا کہ ملت اسلامیہ کو متحد کرنے میں جتنا مؤثر کردار

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے کہا ہے کہ کالجز میں بورڈ آف گورنرز کا قیام قانون کے مطابق ہوا تو عدالت ہرگز قدغن نہیں لگائے گی۔

یہ ریمارکس چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس اعجاز احمد چوہدری نے پنجاب اسمبلی کے باہر طلبہ پر تشدد ازخود نوٹس کیس اور کالجز میں بورڈ آف گورنرز کے قیام کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران دیئے۔ انہوں نے قرار دیا کہ عدالت عوامی خواہشات کی بنیاد پر نہیں بلکہ قانون کے تحت فیصلہ کرتی ہے۔ فاضل عدالت کا کہنا تھا کہ اگر بورڈ آف گورنرز کو ہر فیصلہ کرنے سے پہلے حکومت سے اجازت لینی پڑتی ہے تو اسکے قیام کا کیا جواز ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ عدالتوں کا کام پالیسیاں مرتب کرنا نہیں، حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کے

مزید نتائج