تازہ ترین:

ڈپوٹیشن: کے نتائج

سندھ میں پابندی کے باوجود میرٹ کے برعکس ڈپوٹیشن پر تعیناتیاں

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) سندھ میں میرٹ کی دھجیاں اڑانے اور اقربا پروری کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے پابندی کے باوجود ڈپوٹیشن پر تعیناتیاں کردی گئی ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے فروری میں ڈپوٹیشن پر کام کرنے والے 85 افسروں کو عہدوں سے ہٹا دیا تھا۔ اس کے باوجود بااثر افسران اپنے عہدوں پر

سندھ ہائی کورٹ نے ڈپوٹیشن کیس میں چیف سیکرٹری سندھ فضل الرحمان کو افسران کی فہرست سمیت عدالت میں طلب کر لیا۔

سندھ ہائی کورٹ میں منیر عباسی نامی سندھ گور نمنٹ کے ملازم نے درخواست دائر کی تھی کہ سندھ ہائی کورٹ نے جون دو ہزار دس میں ایک فیصلہ میں کہا تھا کہ ڈپوٹیشن پر آئے ہوئے افسران کو واپس ان کے محکموں میں بھیجا جائے کیونکہ ان کو کسی دوسرے محکمے میں ضم نہیں کیا جاسکتا ، تاہم اس کے باوجود اب تک کئی سندھ حکومت کے مختلف محکموں میں ڈپوٹیشن پر افسران کام کررہے ہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔ اس درخواست پر سندھ ہائی کورت کے جسٹس سجاد علی شاہ اور جسٹس شاہد انور باجوہ پر مشتمل بنچ نے اکیس ستمبر تک چیف