ایڈیشنل ڈائریکٹر ایف آئی اے ظفر قریشی کی سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق ڈی جی ایف آئی اے اور سیکرٹری داخلہ نے این آئی سی ایل کیس میں تعاون نہیں کیا اور دونوں افسران کی ملی بھگت نے ملزمان کو فائدہ پہنچایا۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور اور ایڈیشنل ڈائریکٹر لیگل نے دو کروڑ روپے کے منجمد اکاؤنٹس کو غیرمنجمد کرنے کے لیے جعلی خطوط لکھے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ مونس الہیٰ کے غیر ملکی اکاؤنٹس کی فائل ڈی جی ایف آئی اے سے مانگی جس پر ان کا کہنا تھا کہ فائل گم ہوگئی ہے جبکہ اس کے گم ہونے پر