قرضہ معافی کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی ۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے کے آغا کی جانب سے تجویز دی گئی کہ قرضوں کی معافی کے لیے قائم کیے جانے والے کمیشن میں ایسے انوسٹی گیشن آفیسرز کو بھی شامل کیا جائے جو وائٹ کالر کرائمز کی تفتیش میں مہارت رکھتے ہوں،عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی تجویزسے اتفاق کیا کہ کمیشن اپنی عبوری رپورٹ چھ ماہ کے بجائے تین ماہ میں مکمل کرے ۔ کے کے آغا کا کہنا تھا کہ قرض معاف کرانے والوں کے خلاف تجاویزحکومت کو بھجوا رکھی ہیں جن کے جواب