تازہ ترین:

پنجاب کے: کے نتائج

جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں پانی اترنے کے بعد لوگوں کی اپنے گھروں کو واپسی کا سلسلہ جاری ہے، گیسڑو اور دیگر وبائی امراض پھیلنے سے لاکھوں بچوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔

جنوبی پنجاب کے اضلاع میانوالی ، بھکر ، لیہ ، مظفرگڑھ ، ڈیرہ غازی خان اور رحیم یار خان میں پانی اترنے کے بعد زندگی کسی حد تک معمول پر آرہی ہے، متاثرین اپنے گھروں کو واپس پہنچنا تو شروع ہوگئے ہیں لیکن حکومتی امداد نہ ملنے کی وجہ سے وہ اپنے گھردوبارہ تعمیر کرنے کے قابل نہیں ۔ طبی مراکز اور ہسپتال زیرآب آنے کی وجہ سے لوگوں کو صحت کی سہولیات کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے ۔ لوگوں میں تیزی سے وبائی امراض پھیل رہے ہیں اور خاص طور پر بچے شدید مشکلات کا شکار ہیں ۔ عالمی ادروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ

جنوبی پنجاب کے اضلاع راجن پور، رحیم یارخان اورمظفرگڑھ میں سیلاب کی صورتحال بدستورتشویشناک ہے ۔ لوگ اپنی جانیں بچانے کےلیے اونچے مقامات اوردرختوں پرپناہ لیے ہوئے ہیں ۔

دریائے سندھ میں آنیوالے سیلابی ریلے  اور طوفانی بارشوں کے باعث جنوبی پنجاب سیلاب کی بدترین تباہ کاریوں سے دوچارہے ۔ راجن پور، کوٹ مٹھن ، چاچڑاں شریف، کوٹ ادو، محمود کوٹ اور سناواں میں سینکڑوں کی بستیاں اوردیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں جبکہ باقی بچ جانے والے علاقے بدستورکئی کئی فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں ۔ لاکھوں افراد بے گھراورحکومتی امداد کے منتظرکھلے آسمان تلے پڑے ہیں ۔ چاچڑاں شریف میں دریائے سندھ میں اس وقت گیارہ لاکھ دس ہزار کیوسک کا بڑا ریلہ گذر رہا ہے جس سے مزید کئی علاقے زیرآب آنے

پنجاب حکومت نے چارسالہ گریجویشن کے پروگرام کی توثیق کر دی ہے، پہلے مرحلے میں پنجاب کے چھبیس کالجوں میں بی اے کی ڈگری کیلئے چار سال کی تعلیم لازمی کردی گئی ہے۔

پنجاب حکومت نے بی اے کیلئے چار سال کی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ پہلے مرحلے میں لاہور میں چھ اور پنجاب کے دیگر اضلاع  میں لڑکوں اورلڑکیوں کے ایک ایک کالج میں چار سالہ کورس شروع کیا جائے گا۔ ہائرایجوکیشن کمشن کے مطابق یہ پروگرام اس سال ستمبرسے شروع کیا جائے گا جس کے بعد ایک سال کے  اندرباقی کالجوں میں بھی اس کا آغاز کردیا جائے گی۔ اس سلسلے میں اساتذۃ کی تربیت اور دیگرضروری سہولتیں فراہم کرنے کے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔بین الاقوامی معیارکے مطابق بیرونی ممالک کی یونیورسٹیاں

مزید نتائج