تازہ ترین:

ُپر: کے نتائج

لاڑکانہ کے قریب سیم کینال میں پڑنے والے شگافوں کو اب تک ُپر نہیں جاسکا جس کے باعث تیرہ دیہات زیرآب آگئے ہیں۔

خیرپورناتھن شاہ کے قریب ایم این وی ڈرین میں شگاف پڑنے سے قریبی دیہات زیرآب آگئے ہیں ۔ گاجی کھاوڑ میں تین حفاظتی بند بہہ جانے سے پورا علاقہ اور سیم کینال میں پڑنے والے شگاف سے گوٹھ جلبانی سمیت تیرہ دیہات زیرآب آ چکے ہیں۔ سیلابی ریلا ضلع قمبر شہدادکوٹ کے علاقے نصیر آباد اور ضلع لاڑکانہ کے شہروں باڈہ اور وارہ کی جانب بڑھ رہاہے۔ دوسری جانب شہداد کوٹ کے عارضی حفاظتی بند پر سیلاب کا شدید دباؤ ہے۔انتظامیہ کے مطابق شہداد کوٹ شہر آئندہ چوبیس گھنٹوں تک خطرے کی زد میں رہے گا۔ ادھر ٹھٹھہ کی تحصیل سجاول میں

دریائے سندھ میں دادو کے مقام پر طغیانی سے سینکڑوں دیہات زیرآب آ گئے جبکہ دادو مورو پل پر پڑنے والا شگاف تاحال ُپر نہیں کیا جاسکا

شہداد کوٹ کے قریب کیر تھر کینال میں پانی کا بہاؤ الٹا ہونے کی وجہ سے سیلابی ریلہ تیزی سے سکھرشہر کی طرف بڑھ رہا ہے۔ جس سے قبوسعید خان ، شہداد کوٹ ، سجاول ،میروخان اور رتو ڈیرو شہروں میں بھی خطرے کی وارننگ جاری کردی گئی ہے۔ ڈی سی او شہداد کوٹ نے قبو سعید خان سمیت ایک سو پچاس دیہات کو ہنگامی طور پر خالی کرنے کا حکم دیا ہے۔ شہداد کوٹ کو بچانے کے لیے انتظامیہ نے موٹروے پربند باندھنے کا آغاز کردیا ہے۔ سیلابی ریلہ ایف پی بند کی جانب بڑھ رہا ہے اورملحقہ علاقوں کے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ لاڑکانہ

لاہور کے علاقے اچھرہ کے قریب بارش کے باعث فیروز پور روڈ پر پڑنے والا گڑھا دوسرے روز بھی ُپر نہ کیا جا سکا جس کے بعد سڑک کا ایک حصہ ٹریفک کے لیے بدستور بند ہے ۔

چھبیس کروڑ روپے سے تعمیر ہونے والی فیروز پور روڈ کے ایک حصے پر گزشتہ روز بارش کے نتیجے میں کئی فٹ بڑا گڑھا پڑ گیا تھا جس سے ایک طرف کی ٹریفک کو بند کر دیا گیا ۔ سڑک کی مرمت کے لیے تعمیر کا کام سست روی سے جاری ہے اور گڑھے والی جگہ پر سیوریج کے نئے پائپ بچھائے جا رہے ہیں تاہم انتطامیہ ذرائع کے مطابق اس سڑک پر ٹریفک بحال ہونے میں چند روز مزید درکار ہیں ۔

مزید نتائج