تازہ ترین:

وزیرقانون: کے نتائج

سابق وفاقی وزیرقانون ڈاکٹر بابراعوان کو واجب القتل قرار دینے پر سپریم کورٹ نے پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناءاللہ کو سات جولائی کو طلب کرلیا

جسٹس جاوید اقبال نے رانا ثنااللہ کی طرف سے ڈاکٹر بابراعوان کو واجب القتل قرار دیے جانے کے خلاف ازخود نوٹس کیس کی ان چیمبر سماعت کی جس میں سابق وفاقی وزیر قانون ڈاکٹر بابراعوان پیش ہوئے اور راناثناءللہ کی ویڈیو ریکارڈنگ اور اخباری تراشے پیش کیے جس میں انہوں نے ڈاکٹر بابراعوان کو واجب القتل قرار دیا تھا۔ اس پر جسٹس جاوید اقبال نے رانا ثناء اللہ کو سات جولائی کو طلب کرنے کے نوٹسز جاری کردیئے۔

سابق وفاقی وزیرقانون بابراعوان سے متعلق صوبائی وزیرقانون راناثناء اللہ کے بیان کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے ۔

مقامی ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں سابق وفاقی وزیرقانون بابر اعوان کو واجب القتل قراردیا تھا لہذا عدالت ان کیخلاف مقدمے کا اندراج کرکے کارروائی کرنے کے احکامات جاری کرے۔ درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بابراعوان کے حوالے سے راناثناء اللہ سمیت جتنے بھی افراد نے فتوے جاری کیے ہیں ان کاریکارڈ بھی طلب کیا جائے۔ درخواست گزارکا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت راناثناء اللہ کو طلب کرکے ان کے بیان کے حوالے سے وضاحت طلب

سابق وفاقی وزیرقانون بابراعوان سے متعلق صوبائی وزیرقانون راناثناء اللہ کے بیان کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی گئی ہے ۔

مقامی ایڈووکیٹ نے اپنی درخواست میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ صوبائی وزیر قانون راناثناء اللہ نے اپنے ایک بیان میں سابق وفاقی وزیرقانون بابر اعوان کو واجب القتل قراردیا تھا لہذا عدالت ان کیخلاف مقدمے کا اندراج کرکے کارروائی کرنے کے احکامات جاری کرے۔ درخواست گزار نے یہ بھی مؤقف اختیار کیا ہے کہ بابراعوان کے حوالے سے راناثناء اللہ سمیت جتنے بھی افراد نے فتوے جاری کیے ہیں ان کاریکارڈ بھی طلب کیا جائے۔ درخواست گزارکا یہ بھی کہنا تھا کہ عدالت راناثناء اللہ کو طلب کرکے ان کے بیان کے حوالے سے وضاحت طلب

مزید نتائج