تازہ ترین:

واقعے: کے نتائج

خروٹ آباد واقعے میں جاں بحق ہونے والے مزید تین افراد کوکوئٹہ میں سپرد خاک کردیا گیا۔

کوئٹہ کے مضافاتی علاقے خروٹ آباد میں پولیس اورایف سی کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے تین اورباشندوں کو الخدمت فاﺅنڈیشن نے کوئٹہ کے مغربی علاقے میں واقع قبرستان میں سُپرد خاک کیا ، تینوں افراد کا تعلق روس کی ریاست چیچنیا سے تھا جن کی تدفین کے لئے کراچی میں متعین روس کے قونصل جنرل کوئٹہ آئے تھے، قونصل جنرل نے بولان میڈیکل کمپلیکس میں دولڑکیوں اورایک مرد کی لاشوں کا معائنہ کیا، جس کے بعد جماعت اسلامی کے صوبائی امیرعبدالمتین اخونزادہ نے نماز جنازہ پڑھائی اورپھرانہیں سینکڑوں افراد کی موجودگی میں

کوئٹہ پولیس نے خروٹ آباد واقعے کی فوٹیج بنانے والے صحافی جمال ترکئی کو ایک گھنٹے حراست میں رکھنے کے بعد رہا کردیا ۔

کوئٹہ پولیس نے صحافی جمال ترکئی کو آج صبح حراست میں لے کر خروٹ آباد تھانے میں لے گئی جہاں ایک گھنٹہ بعد انہیں رہا کردیا گیا۔ صحافی جمال ترکئی کا کہنا ہے کہ پولیس نے انہیں ڈبل سواری کے الزام میں گرفتار کیا اور تھانے لا کر بدکلامی کی اور تشدد کا نشانہ بنایا۔ جمال ترکئی نے خروٹ آباد تحقیقاتی ٹریبونل کے سامنے چشم دید گواہ کی حیثیت سے بیان دیا تھا اور واقعے کی فوٹیجز بھی عدالت کے سامنے پیش کی تھیں۔ جسٹس محمد ہاشم کی سربراہی میں بننے والے خروٹ آباد تحقیقاتی ٹریبونل نے گواہان کو سخت سیکیورٹی فراہم کرنے

صدرزرداری نے کراچی واقعے کا نوٹس لے لیا جبکہ وزیراعظم کے مشیربرائے انسانی حقوق مصطفٰی نوازکھوکھرنے رینجرز کی سکیورٹی لینے سے انکارکردیا۔

کراچی میں رینجرزکے ہاتھوں مارے جانے والے نوجوان کی ہلاکت پرصدرمملکت آصف علی زرداری نے سخت غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے بہیمانہ قتل سے تعبیر کیا ہے۔ صدارتی ترجمان کے مطابق صدرنے کراچی واقعے کی فوری رپورٹ طلب کرلی ہے۔ دوسری طرف اس واقعے پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم کے مشیر برائے انسانی حقوق مصطفٰی نوازکھوکھر نے احتجاجاً کراچی کے دورے کے دوران رینجرز کی سکیورٹی لینے سے انکارکردیا ہے، انہیں مقتول نوجوان کے گھرتعزیت کے لئے جانا تھا۔

مزید نتائج