چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے سترہ رکنی بینچ نے اٹھارہویں ترمیم کے بارے میں کیس کی سماعت کی ۔ سول سوسائٹی کے وکیل سلمان اکرم راجہ نےدلائل دیئے کہ اٹھارہویں ترمیم عوامی امنگوں کی ترجمان ہے۔ اس کے ذریعے اختیارات کا توازن قائم کیا گیا ہے تاکہ مستقبل میں کوئی مشکل پیش نہ آئے، یورپ کے کئی ممالک میں ججوں کی تقرری کے لئے ایسا ہی طریقہ کار رائج ہے۔ اس موقع پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اٹھارہویں ترمیم کی ضرورت پارلیمانی نظام کی مضبوطی کے لئے محسوس کی گئی، اس کے بعد وزیراعظم