حزب التحریرکے جولائی دو ہزار سات میں حساس اداروں کے ہاتھوں اغوا ہونے والے چارافراد عمران یوسف زئی، حیان داورخان، ڈاکٹرعبدالقیوم اور اسامہ حنیف کی درخواست کی سماعت جسٹس ناصرالملک اور جسٹس طارق پرویز پرمشتمل دورکنی بینچ نے کی۔ درخواست گزاروں کے وکیل ایڈووکیٹ عمرحیات سندھو نے عدالت عظمی کوبتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں کیس کی سماعت کے دوران واضح طورپرحزب التحریر کے افراد کواغوا کرنے کے ثبوت اوربیانات پیش کیے جاچکے ہیں اوراس پراسلام آباد ہائی کورٹ ڈی جی ملٹری انٹیلی جنس اور ڈی جی آئی ایس