ملازمتوں: کے نتائج

حکومت کوکمزورمعیشت اورمالیاتی دباؤ ورثے میں ملا، ملازمتوں کے حصول کے لئے خصوصی فریم ورک بنایا گیا ہے۔ وفاقی وزیرخزانہ عبدالحفیظ شیخ

قومی اسمبلی میں مالی سال دوہزار گیارہ بارہ کا بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے کہا کہ دوہزارچھ سے افراط زرکی شرح مسلسل بڑھ رہی ہے۔ حکومت کو کمزورمعیشت اورمالیاتی دباؤ ورثے میں ملا۔ انہوں نے کہا کہ ماضی میں امراء ٹیکس دینے سے گریز کرتے رہے مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مسائل میں کمی آرہی ہے جبکہ ملازمتوں کے حصول کے لئے خصوصی فریم ورک بنادیا ہے۔ملک کو درپیش سابقہ مشکلات کا تذکرہ کرتے ہوئے وزیرخزانہ نے کہا کہ سیلاب سے ملک کے بالائی اور جنوبی علاقوں کو ناقابل تلافی نقصان

وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اپنی اقتصادی ٹیم سے کہا ہے کہ آئندہ مالی سال کا بجٹ عوام دوست ہونا چاہیے، افراط زر میں کمی لائی جائے اور نئی ملازمتوں کے لیے مناسب اقدامات کئے جائیں۔

وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد میں اقتصادی ٹیم کے خصوصی پری بجٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم گیلانی نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے فرغ کے لئے اقدامات کئے جائیں، حکومت ملکی ترقی کے لئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی۔اس سے پہلے ملاقات کرنے والے گورنر بلوچستان نواب ذوالفقارمگسی سے گفتگو کرتے ہوئے سید یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ حکومت بلوچستان میں جاری ترقیاتی سکیموں کو ترجیحی بنیادوں پرمکمل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی کے لئے اضافی فنڈز دیئے گئے ہیں۔ گورنرنے وزیراعظم کو

لاہورہائیکورٹ نے حکومت پنجاب سے وضاحت طلب کی ہے کہ سرکاری ملازمتوں میں اقلیتوں کیلئے جو پانچ فیصد کوٹہ مختص کیا گیا ہے،اُس پرعملدرآمد ہورہا ہے یا نہیں۔

پاکستان میں اقلیتوں کی زیادہ تعداد مسیحی برادری سے تعلق رکھتی ہے۔  ملک کا قانون بھی اقلیتوں کو ہر طرح سے مساوی حقوق کی ضمانت دیتا ہے، لیکن مسیحی برادی کوشکایت ہے کہ قانون پر عمل درآمد نہیں ہوتا اور انہیں غیرمساوی رویوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  خاص طور پر انہیں شکایت ہے کہ ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے مختص کوٹے پر عمل درآمد نہیں ہوتا۔ حکومتی ترجمان کے مطابق اقلیتوں کو حقوق دلوانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کیے رہے ہیں، لیکن اہم بات یہ ہے کہ ان اقدامات پر کس حد تک عمل کیا جاتا ہے اور کیا

مزید نتائج