چیف جسٹس افتخارمحمد چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کےتین رکنی بنچ نے ایساف کنٹینرکیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت چئیرمین ایف بی آرسلمان صدیق نے عدالت میں رپورٹ پیش کی جس میں بتایا گیا کہ جنوری دوہزار سات سے دسمبردوہزاردس تک ایساف کے تئیس ہزارآٹھ سو بیاسی کمرشل کنٹینرلاپتہ ہوئے ان میں سے نان کمرشل ٹرانزٹ ٹریڈ کے انیس ہزارکنٹینراب بھی مشکوک ہیں جنہوں نے پاک افغان سرحد عبورنہیں کی۔ چئیرمین ایف بی آرکی رپورٹ کے مطابق کنٹینر کے غائب ہونے سے ٹیکسوں اورڈیوٹیز کی مد میں اڑتالیس سے پچاس ارب روپے کا