قاہرہ کے التحریر اسکوائر میں صدر حسنی مبارک کے خلاف احتجاج کرنے والے ہزاروں افراد اب بھی موجود ہیں اورحسنی مبارک سےاستعفے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ ہفتے کی صبح التحریر اسکوائر میں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں لیکن کسی ہلاکت کی اطلاعات نہیں ملی ہیں ۔ مصر میں مظاہروں کے سبب نظام زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گیا ہے جبکہ معاشی ماہرین کے مطابق ملک کو یومیہ اکتیس کروڑ ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔عرب ٹی وکے مطابق نامعلوم افراد نے مصر میں جاری شورش کا فائدہ اٹھاتے ہوئےصحرائے شمالی سینا سے