سٹیٹ بنک کی جانب سے افراط زر کی شرح میں مسلسل اضافے کو بنیاد بنا کر سرمایہ کاروں کو بنکوں کی جانب سے دیئے گئے قرضوں پر شرح سود ایک عرصے سے چودہ فیصد پربرقرارتھی ۔جس پرسرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہمسایہ ممالک میں شرح سود سنگل ڈیجٹ میں ہے جس کے باعث وہاں سرمایہ کاری کو فروغ مل رہا ہے۔ لیکن پاکستان میں عرصہ دراز سے شرح سود ڈبل ڈیجٹ میں ہونے کے سبب سرمایہ کار دلچسپی نہیں لے رہے۔ صنعتکاروں اوردیگرکاروباری افراد کا کہنا ہے کہ حکومت اپنے اخراجات میں کمی کرکے قرضے لینے بند کرے، افراط زر پر قابو