تازہ ترین:

لاہورہائیکورٹ: کے نتائج

لاہورہائیکورٹ نے بھارتی جاسوس اور پاکستان میں بم دھماکوں کے ملزم سربجیت سنگھ کی ممکنہ رہائی کیخلاف دائردرخواست نمٹا دی۔

چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ جسٹس اعجازاحمد چودھری نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار غازی علم دین نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ سربجیت سنگھ پاکستان میں ہونے والے کئی بم دھماکوں میں ملوث ہے اور سزائے موت کا مجرم ہے مگربھارت سے بہترین تعلقات کے خواہشمند حکمران اس کی سزا معاف کرنا چاہتے ہیں جو غیر آئینی اور غیر قانونی اقدام ہے ۔ جس پر عدالت نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کر رکھا تھا ۔ آج وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کراتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ سربجیت سنگھ کی سزا معاف کرنے کے حوالے سے

لاہورہائیکورٹ کے تین اور پشاورہائی کورٹ کے چارمستقل کیے جانے والے ججز نے حلف اٹھا لیا ہے۔

لاہورمیں مستقل کیے جانے والے تین ایڈیشنل ججز کی حلف برداری کی تقریب لاہور ہائیکورٹ میں ہوئی جہاںچیف جسٹس عجاز احمد چوہدری نے تینوں ججز سے حلف لیا۔ مستقل ہونے والے ججوں میں جسٹس قاسم خان،جسٹس امتیاز احمد اور جسٹس صغیر احمد قادری شامل ہیں ۔ حلف برداری کی تقریب میں لاہور ہائیکورٹ کے تمام ججز ،ایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث ،ڈپٹی اٹارنی جنرل اور جوڈیشل افسران نے شرکت کی۔ دوسری جانب پشاورہائی کورٹ کے مستقل کئے جانے والے چار ججز نے حلف اٹھا لیا ہے۔چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس اعجاز افضل نے جسٹس

جعلی مقدمات درج کرنے والے پولیس افسران کو کسی صورت نہیں چھوڑا جائے گا۔ لاہورہائیکورٹ

لاہورہائی کورٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کے ایماء پر نجی کنٹریکٹر کیخلاف بنائے گئے مقدمات کی سماعت کے موقع پرآئی جی پنجاب جاوید اقبال اورایڈووکیٹ جنرل پنجاب خواجہ حارث عدالت میں پیش ہوئے۔ دوران سماعت ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ نجی کنٹریکٹرکے خلاف دومقدمات وزیراعلیٰ پنجاب کے کہنے پردرج کرائے گئے جبکہ باقی مقدمات عام شہریوں کی جانب سے درج کرائے گئے ہیں۔ جس پر چیف جسٹس ہائی کورٹ اعجازچوہدری نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جعلی مقدمات درج کرنے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف کارروائی ضرور کی جائے

مزید نتائج