تازہ ترین:

قذافی: کے نتائج

قذافی ابھی تک لیبیا میں ہیں، باقی اہلخانہ الجزائر اور دیگر ممالک چلے گئے

طرابلس (انٹرنیشنل ڈیسک) لیبیا میں صدر قذافی کے باغی بتدریج اقتدار کے مختلف ایوانوں پر قبضہ کئے جا رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہی وہ قذافی کی تلاش میں بھی مسلسل سرگرداں ہیں۔ ان کے وفاداروں کے قافلوں میں جن میں قذافی کا ایک بیٹا سعدی بھی شامل ہے، صحرائی سرحد عبور کر کے نائجیریا

معمرقذافی کی بیٹی عائشہ قذافی نے کہا ہے کہ ان کے والد زندہ ہیں اور اپنے وطن کی آزادی کیلئے جنگ لڑ رہے ہیں۔

ایک ٹی وی چینل کو دیئے گئے انٹرویو میں معمر قذافی کی بیٹی عائشہ قذافی نے کہا ہے کہ ان کے والد بالکل ٹھیک ہیں اور اپنے بیٹوں کے ہمراہ لیبیا کی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چالیس ملکوں نے اپنے طیاروں، راکٹس اور ٹیکنالوجی کیساتھ لیبیا پر حملہ کیا ہے انہیں مقامی غداروں کی حمایت حاصل ہے تاہم لیبیا کے بہادر عوام دشمن کی بے پناہ طاقت کے باوجود ثابت قدمی سے لڑرہے ہیں۔ عائشہ قذافی نے عرب رہنماؤں اورعوام پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عرب لیڈروں نے لیبیائی عوام کے قتل عام میں مدد کی ، افسوس یہ ہے کہ

لیبیا میں باغیوں نےمعمر قذافی کے آبائی شہرسرت کے کچھ حصوں پرقبضے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ بنی ولید میں بھی شدید لڑائی جاری ہے۔

لیبیا میں باغی فوج کے ترجمان نے مزاحمت کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ لڑائی کے دوران ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں جبکہ لڑائی کے باعث شہر کے اکثر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہے اور لوگ محصور ہوکر رہ گئی۔ادھربنی ولید شہرمیں بھی قذافی کی حامی افواج نے باغیوں پر گولہ باری کی اور فریقین کے درمیان شہرپرقبضے کیلئے شدید لڑائی جاری ہے۔بنی ولید پر حملوں کے جواب میں قذافی کی حامی فورسز کی جانب سے سخت ترین بمباری اور فائرنگ کی وجہ سے ابھی تک باغیوں کو کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں ہوسکی ۔

مزید نتائج